Khawaja Huzoor Ki Ibadat

Book Name:Khawaja Huzoor Ki Ibadat

رکھتے*خِلافِ شریعت کام کرتے ہیں، دوسروں کو نیک رستے کا مُسَافِر کیا بنائیں گے۔ ایسے لوگوں کا حَال کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: ہم تو پہنچے ہوئے ہیں، ہمیں نمازوں کی کیا حاجت...؟ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ! یاد رکھئے! نماز، روزے اور عِبَادات سے کوئی بھی آزاد نہیں ہے، جو بھی مسلمان ہے، عاقِل،  بالغ ہے، جب تک سانس چل رہی ہے، کوئی بھی شریعت سے آزاد نہیں ہے۔ سب پیروں کے آقا، سب نبیوں کے آقا، مکی مَدَنی مُصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ پاک نے حکم فرمایا:

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠(۹۹) (پارہ:14، سورۂ حجر:99)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تمہیں موت آ جائے۔

یعنی اے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم!جب تک موت آپ کی بارگاہ میں حاضِر نہیں ہو جاتی اُس وقت تک آپ اپنے ربّ کی عبادت میں مصروف رہیں۔([1])اِس سے معلوم ہوا کہ بندہ خواہ کتنا ہی بڑا ولی بن جائے وہ عبادات سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ جب اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو آخری دَم تک عبادت کرنے کا حکم دیا گیا، تو ہم کیا چیز ہیں۔

خیر! پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ پیرِ کامِل تلاش کریں اور صِرْف وصِرْف پیرِ کامِل کے ہاتھ پر ہی بیعت کریں۔ پِیر کامِل کی 4شرائط ہیں: (1):سُنّی صَحِیْحُ الْعَقِیْدہ ہو (2):اتنا عِلْمِ دِین رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائِل کتابوں سے نکال سکے (3):فاسِقِ مُعْلِنْ نہ ہو (یعنی اِعْلانیہ گُنَاہ کرنے والا، مثلاً داڑھی مُنْڈانے والا، نمازیں قضا کرنے والا، بڑے بڑے عورتوں جیسے بال رکھنے والا نہ ہو) (4):اُس کا سِلسلہ (نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمتک )مُتَّصِلْ



[1]... تفسیر خازن،پارہ :14، سورۂ حجر، زیرِ آیت : 99،جلد:3،صفحہ :65 خلاصۃً۔