Book Name:Kamyabi Pane Ke Teen Nuskhe
کر پِھر بَھلے آرام کر لیجئے!
نمازِ اِشْرَاق کے صدقے بخشش ہو گئی
خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ پاک سے محبّت کرنے والوں کا طریقہ ہے کہ فجر کی نماز ادا کر کے سُورج نکلنے تک جائے نماز پر بیٹھے رہتے ہیں، اِن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ہو جائیں اور اِن پر ہر وقت اَنوار کی تجلی رہے، ایسا شخص جب صُبح کی نماز ادا کر کے جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فِرشتے کو حکم ہوتا ہے کہ جب تک یہ نہ اُٹھے، اُس وقت تک اِس کے پاس جاکر اِس کی بخشش مانگ۔
اِس ضمن میں خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک کفن چور 40 سال تک کفن چراتا رہا، آخر جب مرا تو کسی نے اُسے خواب میں دیکھا کہ جنّت میں ٹہل رہا ہے،خواب دیکھنے والےنے اس کا سبب پوچھا تو بولا: میری ایک عادت تھی کہ جب میں صبح کی نماز ادا کر لیتا تو سورج نکلنے تک یادِ اِلٰہی میں مَشْغُول رہتا، پھر اِشْرَاق کی نماز ادا کرتا۔ اللہ پاک چونکہ بہت بخشنے والا ہے، چنانچہ اللہ پاک نے میرے اِس ایک عَمَل کو قبول فرمایا اور مجھے بخش دیا۔([1])
میں پڑھتا رہوں سنّتیں وقت ہی پر ہوں سارے نوافِل ادا یااِلٰہی!([2])
اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے، ہم پُورا ماہِ رمضان اِشْرَاق، چاشت کے نوافِل پابندی کےساتھ ادا کرتے رہیں۔ اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! ماہِ رمضان کامیابی کے ساتھ گزارنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔