Book Name:Kamyabi Pane Ke Teen Nuskhe
زیادہ سخی ہے،بے شک آپ تینوں ہی سخی اور واجِبُ ا لْاِحْتِرام ہیں ۔ پھراُس نے 30ہزار دِرْہم حضرت واقِدِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو اور 20، 20 ہزار اُن دونوں کو دئیے اور حضرت واقِدِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو قاضی(Judge) بھی مُقَرَّر کردیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے سخاوت اور خیر خواہی کا نِرالا انداز...!! ہمیں بھی چاہئے کہ اس واقعہ سے سبق سیکھیں اور رمضان شریف میں خُوب بھلائی کے کام کریں۔
آقا صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم خوب سخاوت فرماتے
پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے رَمضان شریف کے معمولات میں سے ہے کہ آپ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ماہِ رمضان میں خُوب کثرت سے سخاوت فرمایا کرتے تھے، روایات میں یہاں تک کہ آپ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ماہِ رمضان میں تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے([2]) آپ سے جو مانگا جاتا، عطا فرما دیتے تھے۔([3])
سُبْحٰنَ اللہ!ہمارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم تو سخیوں کے سخی ہیں، رمضان ہو یا غیرِ رمضان اِس دَرْسے سخاوت کا دریا ہمیشہ جاری ہی رہتا ہے۔ البتہ!سخی آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا دریائے سخاوت مزید جوش پر ہوتا تھا۔ہمیں بھی ماہِ رمضان میں اپنی سخاوت بڑھا دینی چاہئے، پہلے جتنا راہِ خُدا میں دیتے ہیں، رَمضان شریف میں اُس سے بڑھ کر دیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوب خیر خواہی کریں۔