Book Name:Kamyabi Pane Ke Teen Nuskhe
پڑ گئے دوزخ پہ تالے قید میں شیطان ہے([1])
کاش! ہمیں یہ سَعَادت مِل جائے! ہم ماہِ رمضان کو صِرْف و صِرْف عِبَادت و ریاضت وغیرہ کے لئے خاص کر دیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! مسلمانوں کی اَمّی جان، حضرت عائشہ صِدِّیقہ طیّبہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں:جب رَمضان شریف تشریف لاتا تو پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم عِبَادت پر کمر باندھ لیا کرتے تھے۔([2])
امام نَوَوِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:عِبَادت پر کمر باندھ لینے کا معنیٰ یہ ہے کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم عام رُوٹین(Routine) میں جتنی عِبَادت کرتے تھے، رَمضان شریف میں اِس سے بڑھ کر عِبَادت فرمایا کرتے۔([3])
اندازہ لگائیے!آقا کریم،رءوْفٌ رَّحیم صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا تو ایک ایک لمحہ عام حالات میں بھی نیکیاں کرتے ہی گزرتا تھا تو رَمضان شریف میں عِبَادت کی کس قدر کَثْرت فرماتے ہوں گے۔ دوسری طرف ہمارا حال کیا ہے؟ افسوس!ہمارے ہاں ماہِ رمضان میں لوگ اپنی دُنیوی مَصْرُوفیات بڑھا لیتے ہیں۔ رَمضان شریف کاروباری حضرات کے لئے کمائی کا مہینا ہوتا ہے، ماہِ رمضان میں بازاروں میں رَش ہو جاتا ہے، جوتی، کپڑے