Karbala Ke Jaan Nisaron

Book Name:Karbala Ke Jaan Nisaron

اور واقعۂ کربلا کی یادَیں دِلوں میں تازہ ہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ بلند رُتبہ لوگ جو کربلا کے میدان میں امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہکے ساتھ تھے، آپ کے بلند دِینی مقصد کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے۔

بعض دفعہ ذِہنوں میں خیال ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ جو کربلا میں شہید ہوئے، سارے اَہْلِ بیت ہی تھے بلکہ بعض نادان اعتراض بھی کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم میں سے کوئی بھی امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہکے ساتھ نہیں تھا۔ یہ غلط بات ہے، معلومات کی کمی کی وجہ سے ہے *اَوَّل تو دیکھئے! امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہجنگ کے لئے کربلا میں آئے ہی نہیں تھے، بھلا جنگ کے لئے جاتے ہوئے کوئی بچوں اور خواتین کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے...؟ اگر امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہجنگ کے اِرادے سے تشریف لاتے تو ہزاروں صحابہ کا لشکر ضرور آپ کے ساتھ ہوتا *دُوسری بات یہ کہ وہ خوش نصیب جنہوں نے میدانِ کربلا میں جانوں کے نذرانے پیش کئے، وہ سب اَہْلِ بیت ہی نہیں تھے، ان میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم بھی تھے اور تابعین بھی تھے۔ میدانِ کربلا میں امامِ حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہکے ساتھ کتنے افراد تھے، ان کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے،   مشہور یہی ہے کہ 72 افراد تھے، بعض نے  82 اور بعض نے اس سے بھی زیادہ بتائے ہیں۔([1])ان میں (مرد ، عورتیں اور بچے شامل کر کے کل) 19 افراد اَہْلِ بیت کے تھے، باقی سب صحابۂ کرام وتابعین  تھے۔ ([2])مثلاً *حضرت اَنس بن حارِث رَضِیَ اللہُ عنہصحابئ رسول ہیں، آپ میدانِ کربلا میں شہید ہوئے([3]) *حضرت حَبیب


 

 



[1]... شامِ کربلا، صفحہ:253۔

[2]... تاریخ الاسلام للذہبی، جلد:2، صفحہ:363بتصرف۔

[3]... الاصابہ فی تمییز الصحابہ،رقم:266، جلد:1، صفحہ:110۔