Karbala Ke Jaan Nisaron

Book Name:Karbala Ke Jaan Nisaron

کروڑوں درود ہوں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

بیان سننے کی نیتیں

حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])

اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجئے! *رضائے الٰہی کے لئے بیان سُنوں گا *بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

حضرت حُرْ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی جاں نثاری

61 ہجری کی بات ہے،مُحَرَّم شریف کا مہینا تھا، 10 تاریخ تھی، جمعہ کا دِن تھا، میدانِ کربلا میں اَہْلِ بیتِ اَطْہَار کا امتحان ہو رہا تھا۔امامِ عالی مقام، امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہ جو قافلۂ اَہْلِ بیت کے سربراہ تھے، آپ سمجھانے کی آخری کوشش (یعنی Final Warning) کے لئے یزیدی ظالموں کے سامنے تشریف لائے،کم و بیش 12 ہزار کا لشکر سامنے ہے، اس کے باوُجُود آپ کے چہرۂ مبارَک پر کوئی خوف و خطرہ نہیں تھا، آپ میدان میں تشریف لائے، یزیدی فوج کو اللہ پاک کے عذاب اور جہنّم کی آگ سے ڈرایا، انہیں بتایا کہ میں حُسَین (رَضِیَ اللہُ عنہ)ہوں، تمہارے نبی کا نواسا ہوں، سیّدہ پاک بَتُول زَہْرَاء رَضِیَ اللہُ عنہا کا شہزادہ ہوں، اس ظُلْم سے باز آؤ! ہم سے جنگ کر کے اپنی آخرت برباد مت کرو!


 

 



[1]...بخاری، کِتَاب بَدءُ الْوَحی، صفحہ:65، حدیث:1۔