Karbala Ke Jaan Nisaron

Book Name:Karbala Ke Jaan Nisaron

کے*درودِ پاک کی کثرت کر کے*نیک کاموں میں جلدی کر کے*حُسْنِ اَخْلاق کے ذریعے*عِلْمِ دین سیکھنے میں کوشش کے ذریعے*والدین کی خِدْمت کر کے*پیارے نبی، اچھے نبی، سچے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سنتیں اپنا کر*داڑھی سجا کر*عمامہ پہن کر *راہِ خُدا میں سَفَر کر کے*نیکی کی دعوت عام کر کے*مدنی قافلوں میں سَفَر کر کے *نیک اعمال پر اِستقامت کے ذریعے*غرض ہر وہ کام جو جنّت میں لے جانے والا ہے، ہم اس میں تَیزی کریں، ان کاموں کی طرف دَوڑ کر پہنچیں، اس کی برکت سے جنّت کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔ اللہ پاک ہمیں جنّت کا شوق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم

یہ مِزاح کا وقت نہیں ہے...!!

کربلا والے جنّت کے کیسے شوقین تھے، ایک روایت سنیئے! 10 مُحَرَّم شریف کی صبح جب بس لڑائی شروع ہونے ہی والی تھی، اس سے کچھ دَیر پہلے کی بات ہے، حضرت عبد الرحمٰن بن عبدُ الرَّبّ اور حضرت بَرِیْر ہَمْدَانی رَحمۃُ اللہِ علیہما ایک ساتھ کھڑے تھے، حضرت بَرِیر رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت عبدُ الرحمٰن رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ساتھ خوش طبعی والی باتیں شروع کر دِیں۔ حضرت عبد الرحمٰن رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  نے فرمایا: بَرِیر! یہ کونسا وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا؟ فرمایا: میری قوم جانتی ہے کہ میں سنجیدہ آدمی ہوں لیکن خُدا کی قسم! اس وقت میں بہت خُوش ہوں، ابھی بَس کچھ ہی دَیر بعد شہادت نصیب ہو گی اور ہم جنّت میں پہنچ جائیں گے۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! شوق دیکھئے کیسا نِرالا ہے! سامنے 12 ہزار کا لشکر ہے، شہادت بالکل یقینی ہے، 3دِن سے پانی بند ہے، مشکلات چاروں طرف سے گھیرے


 

 



[1]... تاریخ طبری، السنۃ الحادیۃ و الستون، فیہا مقتل الحسین، جلد:3، صفحہ:318مفہوماً۔