Karbala Ke Jaan Nisaron

Book Name:Karbala Ke Jaan Nisaron

کھڑی ہیں، بعض لوگ واقعۂ کربلا بیان کرتے ہوئے کربلا والوں کو بہت ہی لاچار، انتہائی بےبَس بنا کر دکھاتے ہیں، جبکہ حالت کیا تھی؟ یہ خوش نصیب اللہ پاک کی رضا میں راضِی اور دِل سے خُوش تھے، آپس میں خوش طبعی کر رہے تھے اور خوشی کس بات کی تھی...!! عنقریب شہادت نصیب ہو گی، امامِ عالی مقام، امام حُسَینرَضِیَ اللہُ عنہپر جان قربان کرنا نصیب ہو گا اور ہم مالِکِ جنّت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے کرم سے جنّت میں پہنچ جائیں گے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن                           نہ   مالِ   غنیمت،   نہ   کِشْور   کُشَائی([1])

وضاحت:مومنوں کی شان  یہ ہے کہ نہ یہ مالِ غنیمت چاہتے ہیں، نہ اپنے جھنڈے لگوانا چاہتے ہیں، ان کا مقصد، ان کا مطلوب تو صِرْف یہ ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے نام پر جان قربان کر کے اس کے حُضُور کامیاب ہو جائیں۔

صحابئ رسول کا شوقِ جنّت

حضرت جابِر بن عبد اللہرَضِیَ اللہُ عنہسے روایت ہے، فرماتے ہیں: غزوۂ اُحُد کا موقع تھا، ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا، عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! آپ کیا فرماتے ہیں: اگر میں راہِ خُدا میں لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں تو کہاں پہنچوں گا؟ فرمایا: جنّت میں۔ راوِی کہتے ہیں: وہ صحابیرَضِیَ اللہُ عنہاس وقت کھجوریں ہاتھ میں لئے ہوئے تھے،انہوں نے وہ کھجوریں بھی نہ کھائیں، جنگ میں کُود گئے اور غیر مسلموں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ([2])

سُبْحٰنَ اللہ! کیسا کمال کا شوق ہے...!! ہاتھ میں کھجوریں موجود ہیں مگر صحابئ رسول کو جنّت میں پہنچنے کی جلدی تھی، چند کھجوریں کھانے میں کتنا ٹائِم لگتا ہے، چند سیکنڈ یا منٹ ہی تو


 

 



[1]... کلیاتِ اقبال(اردو)، بالِ جبریل، صفحہ:432 ۔

[2]...  بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد، صفحہ:1017، حدیث:4046۔