ماں باپ کے نام

والدین کے مزاج  کا بچوں پر اثر

* مولاناآصف جہانزیب عطاری مدنی

ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر2021

بچّے والدین کا آئینہ ہوتے ہیں کیونکہ والدین کا کردار اور مزاج بچّوں پر ڈائریکٹ اثر انداز ہوتا ہےاگر والدین کا اپنا مزاج اور اندازِ تربیت بچّوں کے لئے مناسب نہیں تو پہلے اپنی تربیت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بچّوں کی تربیت سے پہلے والدین کو اپنا مزاج اور اندازِ تربیت بدلنا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے والدین مختلف مزاج رکھتے ہیں مثلاً :

(1)ہر کام میں ماہر بچّوں کے خواہشمند :

ان لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچّے ہر کام میں ماہر ہوں ، وہ لوگ اپنے معیار سے کم درجے کی کوئی چیز پسند نہیں کرتے۔ ایسےوالدین کے بچّے ان کی امیدوں پر کم ہی پورا  اُترتے ہیں۔

(2)بچّوں کو سر پہ چڑھانے والے :

 یہ لوگ بچّوں کو کچھ نہیں کہتے ، بچّے چاہے کچھ بھی کر لیں۔ ایسے بچّے معاشرے میں بگڑی ہوئی اولاد کے ٹائٹل سے جانے جاتے ہیں ، ان میں اچھے بُرے کی تمیز کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ، کبھی کبھی تو والدین بھی ان کےبگڑے مزاج کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

(3)بےاصول والدین :

ایسے والدین کے اکثر کام بےترتیب و بے اصول ہوتے ہیں ، نظم و ضبط کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچّے اکثر ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں ایسے بچّوں کی زندگی بھی بےمقصد ہی گزرتی ہے اور انہیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔

(4)غصیلے اور بد مزاج :

کچھ  والدین کے مزاج پر ہر وقت غصہ غالب رہتاہے جس کی وجہ سے بچّے والدین کے پیار کو ترستے رہتے ہیں ، نتیجۃً ایسے بچّے جھگڑالو ہوجاتے ہیں اور والدین سے دور ہو جاتے ہیں نیز اپنی بات منوانے یا کسی کو نصیحت کرنے کے لئے غصے اور مار پیٹ ہی کا سہارا لیتے ہیں۔

(5)احسان جتلانے والے :

یہ والدین ہر وقت اپنے بچّوں پر احسانات جتاتے رہتے ہیں ، خاص طور پر جب بچّوں سے کوئی غلطی ہو جائے اس وقت تو اپنی قربانیوں کی پوری کہانی سنادیا کرتے ہیں۔ ان  بچّے خود کو مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔

(6) دوسروں سے موازنہ کرنے والے :

 یہ والدین اکثر اپنے بچّوں کا دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی اور اپنے بچّوں کی ناکامی پر اظہارِ افسوس کرتے رہتے ہیں ، ایسے بچّے اکثر پَست حوصلہ ہوجاتے ہیں اور احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں۔

(7)بچّوں پر اپنی پسند نافذ کرنے والے :

ایسے والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچّے وہی کام کریں جو انہیں پسند ہوں ، وہی فیلڈ اختیار کریں جو وہ چاہتے ہوں ، یہ بچّوں کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے بچّوں کی اپنی خواہشات دَم توڑ جاتی ہیں۔ ان کی آگے بڑھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے ، اکثر ایسے بچّے والدین کے رویے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔

(8)حوصلہ افزائی نہ کرنے والے :

ایسے والدین اپنے بچّوں کو کچھ نیا نہیں کرنے دیتے۔ ہروقت روک ٹوک کرتے رہتے ہیں ، کسی اچھے کام پر ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ نتیجۃً ان کی ذہنی صلاحیتیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ ایسے بچّے زندگی کے ہر موڑپر دوسروں کے محتاج نظر آتے ہیں۔

(9)مثالی ماں باپ :

جن میں منفی صفات نہیں ہوتیں ، ایسے والدین اپنے بچّوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، بچّوں کو ان کی درست  خواہش کے مطابق کچھ کرنے کی آزادی دیتے ہیں ، بچّوں کی غلطی پر انہیں غصہ کرنے اور روکنے ٹوکنے کے بجائے پیار محبّت سے انہیں غلطیوں کا احساس دلاکر ان کی تربیت کرتے ہیں۔ ایسے بچے معاشرے میں کامیاب فرد کی حیثیت سے زندگی گزارتے ہیں اور اپنی فیلڈ میں ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔

محترم والدین! غور کیجئے کہ آپ کا شمار کن میں ہوتاہے؟ اگر آپ مذکورہ رویّوں میں سے کسی منفی رویے کے حامل ہیں تو فوراً اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کیجئے تاکہ آ پ کا بچّہ اس منفی رویے کی لپیٹ میں نہ آئے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ بچوں کی دنیا(چلڈرنز لٹریچر) المدینۃ العلمیہ ، کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code