Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
تحفۂ مِعْراج کی قدر کیجئے!
پیارے اسلامی بھائیو! زمانے بَھر کا دَستُور ہے کہ لوگ تَحائف کی قدر کرتے ہیں، بِالخصوص جب تحفہ کسی بڑی شخصیت سے ملے تو اُسے سنبھال کر رکھا جاتا اور اپنی قسمت پر ناز کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ تحفوں کی قدر نہیں کرتے یا تحفہ دینے والے کا شکریہ اَدا نہیں کرتے تو ایسے لوگ مُعاشرے میں اچّھی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ میں جس تحفے کی طرف توجّہ دِلانا چاہتا ہوں وہ مخلوق کا نہیں بلکہ خالقِ کائنات اللہ پاک کا دیا ہوا ہے جو شبِ مِعْراج پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے مُسلمانوں کو عطا فرمایا گیا، اس تحفے کو آقائے دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔
اب ہم نے غور کرنا ہے کہ ہم اس تحفۂ مِعْراج کی کتنی قدر کر رہے ہیں۔ آہ! افسوس! آج کل نماز کی بالکل فِکْر ہی نہیں کی جاتی، مُسلمانوں کی اَکْثرِیّت نمازوں سے دُور ہے اور جو نماز پڑھتے ہیں، ان میں بھی ایک تعداد ایسوں کی ہے، جو کبھی پڑھ لیتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے یا دو، تین یا چار پڑھ لیتے ہیں، پانچ پُوری نہیں پڑھتے، جو پانچ پُوری پڑھتے ہیں، ان میں بھی ایک تعداد ہے جو جماعت چھوڑتے ہیں، مسجد میں باجماعت نماز ادا نہیں کرتے۔ کاش! ہمیں اس تحفۂ مِعْراج کی قدر نصیب ہو جائے۔
روایات میں ہے: مِعْراج کے دُولہا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مِعْراج کی رات ایسے لوگوں کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے کچلے جا رہے تھے، جب بھی انہیں کچل لیا جاتا وہ پہلے کی طرح دُرُست ہو جاتے اوریہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا تو آپ