Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
کی باتیں ہوئی تھیں...؟
آنکھ نے دیکھا، دِل نے تصدیق کی
پیارے اسلامی بھائیو! اس خَلْوتِ خاص (یعنی خاص تنہائی) میں کیا کچھ ہوا، قرآنِ کریم کا مزید بیان سنیئے! اللہ پاک فرماتا ہے:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱) (پارہ:27، سورنجم:11)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔
یعنی سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو دیکھا، آپ کے دِل مبارک نے بھی اس کی تصدیق کی، مطلب یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رَبِّ کریم کو سَر کی آنکھوں سے دیکھا، دِل سے پہچانا اور اس پہچاننے میں آپ کو بالکل بھی شک نہ ہوا۔([1])
اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(۱۲)وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ(۱۳) (پارہ:27، سورنجم:11)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بار دیکھا۔
یعنی رسولِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہ جلوہ ایک بار نہیں، بار بار دیکھا ہے۔([2])
یہ عِزّ وجلال اللہ! اللہ!،یہ اَوْج وکمال اللہ! اللہ!
یہ حُسْن وجمال اللہ! اللہ!معراج کو دولہا جاتے ہیں
اللہ کی رحمت سے سرور جا پہنچے دَنا کی منزل پر
اللہ کا جلوہ بھی دیکھا، دیدار کی لذّت پاتے ہیں([3])