Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
سب سے بڑھ کر یہ کہ رَبِّ کائنات نے اپنے پیارے کو اپنا جلوہ بھی دِکھایا *اور قربِ خاص میں بُلا کر بغیر پردے کے ہمکلامی کا شرف بھی عطا فرما دیا۔
یہ حکم مِلا رُوحِ امیں کو شبِ معراج جبریل ابھی لا مرے پیارے کو بلا کر
سِدْرہ پہ تھکے بازوئے جبریل تو آگے رَفْرَفْ نے انہیں چھوڑ دیا عرش پہ لا کر
پِھر عرش سے پار اپنے قریں ان کو بُلایا سب کچھ دیا مَحْبُوب کو دِیدار دکھا کر
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھئے نا؛ یہ کتنی نِرالی شان ہے *زمین و آسمان میں دُھوم مچی ہوئی ہے*جنّت سجائی جا رہی ہے*مسجدِ اقصیٰ میں انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم کو جمع کیا جا رہا ہے*آسمانوں پر چہل پہل ہے*فرشتے اِستقبال کے لئے جمع ہو رہے ہیں، غرض؛ زمین و آسمان میں ایک دُھوم مچی ہوئی ہے اور جن کے لئے یہ سب اہتمام ہو رہا ہے، وہ پیارے مَحْبُوب ، معراج کے دولہا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چین سے بِسْتَر پر آرام فرما ہیں۔
قربان میں شان و عظمت پر، سوئے ہیں چین سے بستر پر
جبریلِ امیں حاضِر ہو کر معراج کا مژدہ سُناتے ہیں([1])
سیدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی بڑی پیاری بات لکھی:
تَبَارَکَ اللہ ہے شان تیری، تجھی کو زیبا ہے بےنیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِی، کہیں تقاضے وِصَال کے تھے([2])
اللہ پاک کی شان بہت ہی بلند ہے، وہ مالِکِ کریم بےنیاز ہے، یہ بھی تو بےنیازی ہی