Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
یاد آنا چاہئے کہ میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زلفیں رکھتے تھے، مجھے بھی یادِ مصطفےٰ میں زلفیں رکھنی ہیں *جب آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں تو یاد آنا چاہئے کہ میرے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تو ایک مٹھی داڑھی مبارَک تھی، مجھے بھی یادِ مصطفےٰ میں یہ پیاری سُنّت چہرے پر سجائے رکھنی ہے *جب گھر میں داخِل ہوں تو یاد آنا چاہئے کہ محبوبِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گھر میں داخِل ہوتے وقت پہلے سیدھا قدم مبارَک اندر رکھتے تھے *جب کھانا کھانے لگیں تو یاد آئے، پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیٹھ کر، سیدھا گھٹنا اُٹھا کر، دوسرے گھٹنے پر بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے، بِسْمِ اللہ پڑھ کر تناوُل فرماتے تھے، یہ سنتیں ہمیں بھی یاد ہوں *پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چلتے کیسے تھے؟ ہم چلنے لگیں تو یادِ مصطفےٰ دِل میں آئے *مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیٹھتے کیسے تھے؟ ہم بیٹھنے لگیں تو یادِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دِل میں آئے *مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بستر مبارَک پر آرام فرما کیسے ہوتے تھے، جب ہم سونے لگیں تو ہمیں یادِ مصطفےٰ آنی چاہئے۔ یوں جب ہم سنتیں سیکھیں گے، ان پر بار بار عَمَل کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! یادِ مصطفےٰ دِل میں بسی رہے گی، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! عشقِ رسول بڑھتا رہے گا۔
اب طرزِ زندگی تو ذرا سا بدل کے دیکھ تُو سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھل کے دیکھ
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنّت کے راستے اللہ سے ملاتے ہیں سنّت کے راستے
معیارِ خوبصورتی و خوب سیرتی پنہاں حدیث میں ہے عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی
اب سُوال ہو گا کہ ہم یہ سب سُنّتیں سیکھیں گے کیسے؟ آج کے دور میں ان سنّتوں پر