Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
سِدْرۃ ُالمنتہیٰ سے آگے کاسَفَر
پیارے اسلامی بھائیو! حُضُور مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جلوۂ نُورِ اِلٰہی کے قریب ہوئے، اس قُرب کی ابتدا سِدْرَۃ ُالْمُنْتَہیٰسے ہوتی ہے۔ جب پیارے آقا، پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سِدْرَۃ ُالْمُنْتَہیٰسے آگے بڑھے تو حضرتِ جبرائیل عَلَیْہ ِالسَّلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے مَعْذِرَت کی۔ محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: یَا جِبْرِیْلُ! فِىْ مِثْلِ هَذَا الْمَقَامِ يَتْرُكُ الْخَلِيْلُ خَلِيْلَهٗاے جبریل! کیا ایسے مقام پر بھی دوست اپنے دوست کو چھوڑتے ہیں؟ عرض کیا:اِنْ تَجَاوَزْتُهٗ اِحْتَرَقْتُ بِالْنُّوْرِ یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میں اگر اس سے آگے بڑھا تو نُور سے جَل جاؤں گا۔([1])
اَگَرْ یَکْ سَرْ مُوْئے بَرتَر پَرَم
فَرَوْغِ تَجَلِّی بَسَوْزَدْ پَرَم
وضاحت: یا رسولَ اللہ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم! یہاں سے ایک قدم بھی آگے بڑھا تو انوار وتجلیات سے میرے پَر جَل جائیں گے۔ میری بَس یہی انتہاء ہے۔
امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے نعتیہ دِیوان وسائلِ بخشش میں اس کی منظر کشی کچھ اِس طرح کرتے ہیں:
جبریل ٹھہر کر سِدْرہ پر بولے جو بڑھے ہم ایک قدم
جل جائیں گے سارے بال و پَر اب ہم تو یہیں رہ جاتے ہیں([2])