Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
پیارے اسلامی بھائیو! ہم معراج کی روایات پڑھیں تو یُوں لگتا ہے گویا یہ رات بخششِ اُمّت کی رات تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہسے روایت ہے، جب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیت ُالْمَقْدَس تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام سے مُلاقات ہوئی، آپ نے فرمایا: اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !آج کی رات آپ کو رَبِّ کائنات سے ملاقات کا شرف بخشا جا رہا ہے، آپ کی اُمّت سب سے آخری اور کمزور ہے، لہٰذا اپنی اُمّتی کی بگڑی بنانا چاہتے ہیں تو آج بنوا لیجئے! ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اب یہاں غور فرمائیے! ہمارے آقا، کریم آقا، رحیم آقا، ہم غُلاموں سے بےپناہ محبّت فرمانے والے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مِعْراج کی رات بھی ہم گنہگاروں کو نہ بُھولے، اب ہمارا کیا حق بنتا ہے...؟ کیا ہم اپنے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مَعَاذَ اللہ! بُھول جائیں...؟ نہیں...! نہیں...!! اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیں نصیحت فرماتے ہیں:
جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضاؔ یاد اُس کی اپنی عادَت کیجئے!([2])
اللہ اکبر! جو آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی وقت ہمیں نہ بھولے، ہمیں بھی چاہئے کہ ہر ہر لمحہ اُن آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یاد منایا کریں *کپڑے پہننے لگیں تو یاد آنا چاہئے کہ میرے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لباس کیسے پہنتے تھے؟ پہلے سیدھی آستین پہنتے، پِھر دوسری آستین پہنتے، پِھر گریبان مبارَک گلے میں ڈالتے *جب سَر پر بالوں کو دیکھیں تو