Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi

Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi

 

سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے...!! پتا چلا؛ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہبہت ہی اُونچے رُتبے والے صحابی ہیں اور آپ دُنیا میں بھی، آخر ت میں بھی قلبِ مصطفےٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے آرام و سکون کا سبب ہیں۔

ایک لمحے کو بھی رکھنا نہ تجھے خود سے الگ     اتنی مَحْبُوب تھی سرورِ کائنات کو رفاقت تیری

بعد نبیوں کے نہیں کوئی بھی افضل تجھ سے   زیب دیتی ہے تجھے جائے امامت تیری

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قُرْب کی انتہا

پیارے اسلامی بھائیو! رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مزید فرمایا: جب میں نے ابوبکر صِدِّیق (رَضِیَ اللہ عنہ ) کی آواز جیسی آواز سُنی، اس سے کچھ آگے بڑھا تو اللہ پاک نے فرمایا: اُدْنُ يَا اَحْمَدُ! اُدْنُ يَا مُحَمَّدُ! ‌لِيَدْنُ ‌الْحَبِيْبُ اے احمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! قریب آئیے! اے مُحَمَّد  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !اَور قریب ہو جائیے! چاہئے کہ حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مزید قریب ہو جائیں۔ پس اللہ پاک نے مجھے اتنا قرب عطا فرمایا، جیسے قرآنِ کریم میں آیا ہے: ([1])

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) (پارہ:27، سورنجم:9)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تَو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

یعنی جلوۂ نُورِ اِلٰہی اور مصطفےٰ جانِ رحمت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انتہائی قریب ہو گئے۔

اعلیٰ حضرت اِمام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کی منظر کشی کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

بڑھ اے مُحَمَّد! قریں ہو احمد! قریب آ سرورِ مُمَجَّدْ!

نثار جاؤں، یہ کیا نِدا تھی، یہ کیا سماں تھا، یہ کیا مزے تھے([2])


 

 



[1]... مواہب اللدنیہ مع شرح زرقانی، المقصد الخامس...الخ، جلد:8، صفحہ:195-196۔

[2]... حدائقِ بخشش، صفحہ:234۔