Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
آپ وہ ذیشان ہیں کہ آپ کا رَبِّ کریم، تمام جہانوں کا خالِق و مالِک آپ پر درود بھیجتا ہے۔ پِھر بھلا ہم غُلامانِ مصطفےٰ کیوں درود نہ بھیجیں؟ ہمیں بھی کثرت کے ساتھ درودِ پاک پڑھنا چاہئے!
نبی کی شان میں ہو جس قدر درود پڑھو محبو! پاؤ گے جنت میں گھر درود پڑھو
خدا تو بھیجے ہے صَلُّوْا وَ سَلِّمُوْا کا خطاب تم ایسے بیٹھے ہو کیوں بے خبردرود پڑھو
فرشتے جاتے ہیں لے کر درود حضرت کو اُدھر پہنچتا ہے جو تم اِدھر درود پڑھو
رسولِ پاک کے حق میں تو یہ بھی تھوڑا ہے جو اُن کے نام پہ آٹھوں پَہر درود پڑھو([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مزید فرماتے ہیں: جب بارگاہِ اِلٰہی میں حاضِری ہوئی، میں نے عرض کیا: اے مالِکِ کریم! میں نے ابوبکر کی آواز جیسی آواز سُنی، کیا وہ مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گئے ہیں؟ اللہ پاک نے فرمایا: آپ کے بھائی حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام کو جب ہمکلامی کا شرف بخشا گیا تھا تو ان کے عصا کی بات ہوئی تھی، میں نے فرمایا:
وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى(۱۷) (پارہ:16، سورۂ طہ:17)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
یہ اس لئے تھا تاکہ اُن کا دھیان عصا کی طرف ہو اور ہمارے کلام کی ہیبت کو برداشت کر لیں۔ یونہی آپ کو ابوبکر کی آواز سے مانُوس کیا گیا کیونکہ ابوبکر دُنیا اور آخرت میں آپ کے مَحْبُوب ہیں۔ ہم نے ابوبکر کی صُورت پر ایک فرشتہ پیدا کیا، اس نے آپ سے کلام کیا تاکہ آپ سے احساسِ تنہائی دُور ہو اور ہماری باگاہ کی ہیبت نہ رہے۔ ([2])