Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
فرمایا: گاڑی روک کر نمازِ مغرب ادا کر لی جائے۔ ایک صاحِب بولے: بس گھر آنے ہی والا ہے، ہم اپنی منزل پر پہنچ کر پڑھ لیں گے۔
حالتِ سَفَر میں چونکہ جماعت واجِب نہیں ہوتی ([1]) اور وقت کے اندر اندر ہی منزل پر پہنچ بھی جانا تھا، چنانچہ یہی طَے ہوا کہ منزل پر پہنچ کر ہی نماز پڑھ لی جائے گی۔ یہ سوچ کر سَفَر جاری رہا، ابھی کچھ ہی آگے گئے تھے کہ اچانک حادثہ ہوا اور گاڑی اُلٹ گئی۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! جانی نقصان نہ ہوا، سب مَحْفُوظ رہے۔ اس وقت پِیر مہر علی شاہ صاحِب رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: یہ نماز میں بِلاوجہ تاخِیر کا وبال ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی سچّی بات ہے، ہم جن باتوں کو بہانا بنا کر نمازوں میں تاخِیر کرتے ہیں، کیا خبر کہ نماز میں تاخِیر کے سبب ہمارے کام اٹک جائیں یا کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ جائے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ جُونہی نماز کا وقت ہو گیا، فورًا نمازِ باجماعت کا اہتمام کریں، پِھر اپنے کاموں میں مَصْرُوف ہوں، اللہ پاک نے چاہا تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! نماز کی برکت سے کام پُورے ہو جائیں گے۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صاحِبِ بہارِشریعت کا نِرالا جذبہ
صاحِبِ بہارِ شریعت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ کا واقعہ ہے، آپ ایک مرتبہ اجمیر شریف میں تھے،شدید بیمار ہو گئے، یہاں تک کہ بےہوشی طاری ہو گئی، دوپہر سے پہلے بےہوش ہوئے اور عصر تک بےہوش ہی رہے۔ حافِظِ ملّت علّامہ عبد العزیز رحمۃُ اللہِ علیہ