Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

گُنَاہ پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں

حضرت ابوعثمان  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں صحابئ رسول حضرت سلمان فارسی  رَضِیَ اللہُ عنہ   کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ آپ  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے اس درخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑا اور اسے ہِلایا۔ ٹہنی خشک تھی، پتّے بھی سوکھے ہوئے تھے، چنانچہ ہِلانے سے اس کے پتّے جھڑ گئے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوعثمان! کیا مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: ارشاد فرما دیجئے! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ایک مرتبہ میں سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا، آپ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے اسی طرح کیا، اُس درخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر ہِلایا، یہاں تک کہ اس کے پتّے جھڑ گئے، پِھر فرمایا: اے سلمان! کیا مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما دیجئے! ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: بیشک جب مسلمان اچھی طرح وُضُو کرتا اور پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گُنَاہ اس طرح جھڑتے ہیں، جس طرح یہ پتّے جھڑ گئے ہیں۔([1])

میرے نبی کی آنکھوں کی راحت نماز ہے     کوثر ہے، دل کا چین ہے جنت نماز ہے

کرتے رہو وضو تو یہ جھڑتے رہیں گناہ                             پاکیزگیِ جاں کی علامت نماز ہے

نیکی سے روکتی ہیں بری عادتیں ہمیں                              اور جو گناہ سے روکے وہ عادت نماز ہے

نَماز کس پر فرض ہے؟

اے خوش نصیب عاشقانِ نَماز!نماز ہم گنہگاروں کے لئے بہت بڑی نعمت ہے *میرے


 

 



[1]...   مسند  احمد، جلد:9، صفحہ:611، حدیث:24350۔