Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ جنہیں لوگ امام بخاری کے نام سے جانتے ہیں، ان کا عرسِ پاک ہوتا ہے۔ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ 13 شوّال شریف 194 ہجری کو بُخارا میں پیدا ہوئے([1])اور 62 سال کی عمر گزار کر یکم شوّال شریف 256 ہجری کو دُنیائے فانِی سے رخصت ہوئے۔ ([2])آپ کا مزار پُرانوار سمرقند کے قریب خَرْتَنْک نامی بستی میں ہے۔([3]) امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ نے ساری زِندگی عِلْمِ حدیث کی خوب خدمت کی، آپ رحمۃُ اللہِ علیہ بڑے عبادت گزار، زَاہِد اور متقی تھے، آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفات کے بعد کافِی عرصے تک آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کی قبر شریف سے مشک سے بھی زیادہ اچھی خوشبو آتی رہی۔([4])
امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ کا شوقِ تِلاوت
ایک دِن امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران شہد کی مکھی نے آپ کو 17 جگہ ڈنک مارے، نماز پُوری کرنے کے بعد آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: ذرا دیکھو تو کیا چیز ہے جو نماز میں مجھے تکلیف پہنچا رہی تھی؟ شاگردوں نے دیکھا تو آپ کی پیٹھ مبارک 17 جگہ سے سُوجی ہوئی تھی۔ امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ نے شہد کی مکھی کے 17 جگہ ڈنک مارنے کے باوُجُود نماز نہ توڑنے کے متعلق فرمایا: میں ایک آیت کی تلاوت کر رہا تھا اور میری یہ خواہش تھی کہ میں یہ آیت پُوری کر لوں۔
امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ کا معمول تھا کہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ رمضان شریف میں ایک قرآنِ پاک نمازِ تراویح میں مکمل فرماتے، پھر نمازِ تہجد میں ہر 3 دِن میں ایک قرآن مکمل