Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

مُرغے نے جب بانگ دی

حضرت عبد اللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ عنہ  فرماتے ہیں :پیارے آقا  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس ایک مُرغے نے بانگ دی تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔آپ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:اِسے لعنت نہ کرو اور بُرانہ کہو، بے شک یہ نماز کے لئے بلاتا ہے۔ ([1])

حضرت علامہ کمالُ الدین دَمیری  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں :مُرغانماز کیلئے بلاتا ہے۔ اس کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ جب جب وہ بانگ دیا کرے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے بلکہ مُرغے کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ طلوعِ فجر کے وقت بار بار آواز (یعنی بانگ) دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ نماز کیلئے اُٹھ جاتے ہیں،اور یوں مُرغا نماز کیلئے لوگوں کے جاگنے  کا ایک ذریعہ ہے، اس کو مُرادی طور پر دُعَاءُ الدِّیْکِ اِلَی الصَّلٰوۃِ ( یعنی مُرغا نماز کیلئے بُلاتا ہے) کہا گیاہے۔ بہرحال وقت ِ فجر کے تعلُّق سے اس کی اذان یعنی بانگ کا اعتماد ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ اکثر تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسانوں کی آہٹ اور چہل پہل سُن کر صبح صادق سے پہلے بھی مُرغے بانگ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

امام بخاری  رحمۃُ اللہِ علیہ  کا ذِکْرِ خیر

پیارے اسلامی بھائیو! یکم شوّال شریف (یعنی عید کے دِن) عالَمِ اسلام کی عظیم شخصیت، بہت بڑے عالِمِ دِین، مُحَدِّث، نیک، عبادت گزار،وَلِیِّ کامل حضرت امام محمد بن اسماعیل


 

 



[1]...  معجم کبیر، جلد:5، صفحہ:11، حدیث:9675۔

[2]...  حیاۃ الحیوان، جلد:1، صفحہ:479 ملخصاً۔