Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
ہاں اس کی بڑی عزّت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس کا خیال کریں، نمازوں کے اَوْقات کی معلومات رکھنا اپنی عادَت میں شامِل کرنا چاہئے، ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آج کل کس نماز کا وقت کب شروع اور کب ختم ہو رہا ہے*دعوتِ اسلامی کی ایک موبائِل ایپلی کیشن ہے: PrayerTime (اوقات الصلاۃ)۔ یہ ایپلی کیشن موبائل میں انسٹال کر لیجئے! اس میں پانچوں نمازوں کے اَوْقات اور اس کے عِلاوہ بہت ساری سہولیات دی گئی ہیں، وقتًا فوقتًا اسے دیکھتے رہیں *اسی طرح محلے کی مسجد جہاں ہم نماز پڑھتے ہیں، آفس میں جاتے ہیں تو آفس کے قریب کی مسجد میں جماعت کے اَوْقات کیا ہیں، کونسی نماز کی جماعت کتنے بجے ہوتی ہے، یہ سب کچھ اپنی معلومات میں رکھیں، پِھر اسی کے مطابق اپنا جدول ترتیب دِیا کریں۔
روایات میں ہے: اللہ پاک کے نبی اور ہم سب کے والِدِ محترم حضرت آدم علیہ السَّلام جب دُنیا میں تشریف لائے تو اب ظاہِر ہے یہاں کام کاج بھی کرنے ہوتے تھے، حضرت آدم علیہ السَّلام کھیتی باڑی کرتے تھے، دُنیا میں نیا نیا قیام تھا، گھڑیاں، الارم وغیرہ وغیرہ کچھ بھی سہولیات اس وقت نہیں تھیں۔چنانچہ آپ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کیا: اے اللہ پاک! ایسی صُورت ہو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو مجھے کسی طرح خبر ہو جائے تاکہ میں سب کام چھوڑ کر نماز میں مَصْرُوف ہو سکوں۔ اس وقت اللہ پاک نے مرغ عطا فرمایا۔جب نماز کا وقت ہو جاتا تو مُرغ بانگ دے دیا کرتا تھا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! گویا دُنیا کا سب سے پہلا الارم مُرغ ہے اور یہ کس لئے آیا تاکہ حضرت آدم علیہ السَّلام کو نمازوں کے اوقات سے خبردار رکھ سکے۔