Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :جس نے جان بوجھ کر ایک وَقت کی نماز چھوڑی ہزاروں سال جہنّم میں رہنے کا حق دار ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرلے۔ ([1])
بےنمازی کی 3 شامتیں
منقول ہے:بروزِ قیامت نَمازوں میں سُستی کرنے والا اِس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرے پر 3 سطریں لکھی ہوں گی:(1):اے اللہ کا حق برباد کرنے والے!(2):اے اللہ کے غضب کے ساتھ مخصوص!(3): جس طرح دُنیا میں تُو نے اللہ پاک کا حق ضائع کیا اِسی طرح آج تُو بھی اللہ پاک کی رَحمت سے مایوس ہو جا۔([2])
پڑھتے رہو نَماز تو جنت کو پاؤ گئے چھوڑو گے گر نَماز جہنم میں جاؤ گے
رسولِ ہاشمی، مکی مدنی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم معراج کی رات ایسے لوگوں کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے کچلے جا رہے تھے، جب بھی انہیں کچل دیا جاتا وہ پہلے کی طرح دُرُست ہو جاتے اوریہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا:اے جبرائیل!یہ کون ہیں ؟ عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نمازپڑھنے سے بوجھل(یعنی بھاری)ہو جاتے(یعنی فرض نماز چھوڑ دیتے )تھے۔ ([3])
پیارے اسلامی بھائیو! ٹھنڈے دِل سے تھوڑا نہیں پورا سوچئے! غور فرمائیے! آج اگر