Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
اس) پر، معرفت کے دروازے کھلنے کا بھی ایک خاص وقت ہوتا ہے اور 5نمازیں جو فرض ہیں، یہ عین اُن اَوْقات ہی میں فرض ہیں،جب دِل پر انوار و تجلیات برستے ہیں۔ لہٰذا جنگ ہو یا امن ہو،سفر ہویا گھر ہو، ہر حالت میں ان اَوْقات کا لحاظ رکھنے،نمازیں ان اَوْقات ہی میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ([1])
معلوم ہوا؛ معرفت کے دروازے کھلنے کے اوقات مقرر ہیں، اس کے عِلاوہ اور وقت میں وہ دروازے نہیں کھلیں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر نماز کو اس کے مقرّر وقت کے اندر ہی ادا کیا کریں۔
سب نمازیں ایک ہی وقت میں کیوں نہ رکھی گئیں
مشہور مُفَسِّر ِقرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت میں سُوال ہوا: 5نمازوں کے یہی اَوقات کیوں مقرّر ہوئے ہیں (یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ پانچ کی پانچ نمازیں دِن میں ایک ہی مرتبہ پڑھ کر فارِغ ہوتے، پِھر آرام سے دُوسرے کاموں میں لگے رہتے)۔
مفتی صاحِب نے اس کا جو جواب دیا، اسے میں اپنے لفظوں میں کچھ وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: نمازوں کے الگ الگ اَوْقات مقرَّر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح مؤمن کی ہر حالت اللہ پاک کے ذِکْر سے شروع ہوتی ہے، 24 گھنٹوں میں انسان کی پانچ حالتیں ہیں*صبح کے وقت دِن کی ابتدا ہے، گویا نئی زندگی ملی، لہٰذا حکم ہوا؛ پہلے نماز پڑھ کر دِن کی ابتدا ہونے، نئی زندگی نصیب ہونے پر اللہ پاک کا شکر ادا کرو! دِن کی ابتدا ذِکْرِ اِلٰہی سے کرو! ابتدا اچھی ہو گی تو اُمِّید ہے کہ انتہا بھی اچھی ہو جائے گی*پِھر آدمی کام کاج میں مَصْرُوف ہو جاتا ہے، دوپہر کے وقت دِن کے دوسرے حصّے کی