Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain
پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ 5نمازوں کے الگ الگ وقت مقرر کرنے کی الگ الگ فضیلتیں اور الگ الگ حکمتیں ہیں، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ان فضیلتوں کو حاصِل کریں، ہر نماز اس کے وقت مقرّر ہی میں ادا کیا کریں، خواہ کیسی ہی مَجْبُوری ہو، ہر مَجْبُوری کو ایک طرف رکھ کر پہلے نماز پڑھیں، پِھر دوسرے کاموں میں لگ جایا کریں۔ اللہ پاک ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
نماز وقت گزار کر پڑھنے کا وبال
یاد رکھئے! نماز کو اس کے وقت سے ہٹانا یعنی قضا کرنا انتہائی سخت گُنَاہ ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ (پارہ:16، سورۂ مریم:59)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ان کے بعد وہ نالائق لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نےنمازوں کو ضائع کیا۔
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ لوگ سِرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں تھے بلکہ معنیٰ یہ ہے کہ وہ لوگ نماز کا وقت گزار کر پڑھتے تھے۔([1])
اللہ و رسول کے ذمہ سے بری
اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، مُحَمَّدِعربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے جا ن بوجھ کر نَماز چھوڑ ی ، اُ س سے اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا ذمہ بری ہو گیا۔ ([2])