Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

ابتدا ہوتی ہے، لہٰذا حکم ہوا کہ کام کاج سے کچھ وقفہ کرو! نمازِ ظہر ادا کر لو! پہلے جو دِن گزرا، اس کا شکر ادا ہو جائے گا اور دِن کے دوسرے حصّے کی ابتدا اللہ پاک کے ذِکْر سے ہو جائے گی*عصر کے وقت دِن اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا، اس وقت تجارت اور کام کاج کرنے والے کام سمیٹنے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور یہ وقت تجارت کے خُوب فروغ کا وقت ہوتا ہے، لوگ کام کاج سے فارِغ ہو کر ضروریات کی خریداری کرتے ہیں، لہٰذا حکم ہوا: نمازِ عصر پڑھ کر دِن بھر کی تجارت اور کام کاج کا شکر بھی ادا کرو! اور دِن کا اختتام اچھا کر لو*سُورج ڈوبنے سے دِن کا اختتام ہوا، رات کی ابتدا ہو گئی، لہٰذا دِن بھر کا شکر کرنے اور رات کی ابتدا اچھی کرنے کے لئے نماز کا حکم ہوا *پِھر رات خوب چھا گئی، اب سونے کا وقت ہوا چاہتا ہے، نیند جو ایک طرح کی موت ہے، اس کی ابتدا ہو رہی ہے، لہٰذا حکم ہوا: عشاء کی نماز پڑھ کر سو جاؤ! کہ شاید یہ آخری نیند ہو، اگر ایسا ہوا تو زندگی کا اختتام اچھا ہو جائے گا، اگر یہ آخری نیند نہ ہوئی تو رات اچھی گزر جائے گی، صبح تازہ دَم اُٹھنا نصیب ہو گا۔ ([1])

5نمازوں کے الگ الگ فضائل

حضرت کعبُ الاحبار  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: میں نےتورَیت شریف کے کسی مقام میں پڑھا (اللہ پاک فرماتا ہے): *اے موسیٰ! فجر کی 2 رَکعتیں احمد  ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم )اور اس کی اُمت ادا کرے گی، جو انہیں پڑھے گا اُس دن رات کے سارے گناہ اُس کے بخش دوں گا اور وہ میرے ذمے میں ہوگا*اے موسیٰ( علیہ السَّلام  )! ظہر کی 4رَکعتیں احمد( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ) اور اس کی اُمت پڑھے گی انہیں پہلی رَکعت کے بدلے بخش دوں گا اور دوسری کے بدلے ان (کی نیکیوں ) کا پَلہ بھاری کر دوں گا اور تیسری کے لئے فِرِشتے مقرر کروں گا کہ تسبیح (یعنی اللہ پاک کی


 

 



[1]... رسائلِ نعیمیہ، اسرار الاحکام، صفحہ:283۔