Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

Book Name:Namazon Ke Auqat Aur Un Ki Hikmatain

ایک مرتبہ جنگ کا موقع تھا، غیر مسلموں نے آپس میں سازش رچائی کہ عصر کا وقت ہونے والا ہے، مسلمانوں کو نماز بہت پیاری ہے، یہ نماز پڑھیں گے، اس وقت ہم اُن پر حملہ کریں گے۔ یہ انہوں نے سازش کی، ادھر اللہ پاک نے حضرت جبریل امین   علیہ السَّلام   کو بھیج دیا، پانچویں سپارے کی آیات نازِل ہوئیں، اس میں اللہ پاک نے نمازِ خوف کا پُورا طریقہ بتایا کہ جب ایسا مُعَاملہ آجائے، اس وقت 2گروہوں میں بٹ جاؤ! ایک گروہ جماعت میں شامِل ہو، امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے، دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے پر رہے، پِھر پہلا گروہ دُشمن کے مقابلے پر آئے اور دوسرا امام کے ساتھ جماعت میں شامِل ہو،([1]) یہ ایک پُورا طریقہ ہے جو قرآنِ کریم میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا، یہاں سے آپ اندازہ لگائیے کہ نماز کو اس کے وقت کے اندر ہی پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ حالتِ جنگ میں بھی ظہر اور عصر یا مغرب اور عشا مِلا کر پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پتا چلا؛ چاہے کیسی ہی مَجْبُوری ہو*سَر میں دَرْد ہو یا بُخار چڑھ جائے*ڈاکٹر سے ملنا ہو یا ضروری شاپنگ کرنی ہو*عِیْد ہو یا تہوار ہوں*شادِی ہو یا جنازے میں شرکت *افطار پارٹی ہو یا سالگرہ کا فنکشن*بَس چھوٹتی ہو یا سَفَر روکنا پڑ رہا ہو، ہر صُورت میں نماز کو اس کے وقت ہی میں پڑھنا لازمی ہے، دُنیا کا ہر کام رُک سکتا ہے مگر جب تک شریعت اجازت نہ دے، تب تک نماز کو اس کے وقت سے ہٹانا ہر گز ہرگز جائِز نہیں ہے۔

نمازِ مغرب میں تاخیر کی تو...

ایک مرتبہ پِیر مہر علی شاہ صاحِب  رحمۃُ اللہِ علیہ  سَفَر پر تھے، کچھ دوست وغیرہ بھی ساتھ تھے، کار میں سَفَر ہو رہا تھا، دورانِ سَفَر نمازِ مغرب کا وقت ہو گیا، پِیر صاحِب نے


 

 



[1]...مسند ابی یعلیٰ، جلد:2، صفحہ:683، حدیث:1444 خلاصۃً۔