Book Name:Shab e Meraj Aur Deedar e Ilahi
کی مثال ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام کوہِ طُور پر ہیں، ہمکلامی کا شرف پاتے ہیں، دِل میں دیدار کا شوق اُٹھتا ہے، محبّتِ اِلٰہی میں ڈُوب کر عرض کرتے ہیں:
رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ (پارہ:9، سورۂ اعراف:143)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ۔
اللہ! اللہ! سُوال کیا جا رہا ہے کہ مولیٰ! اپنا جلوہ دِکھا دے۔ جواب ملتا ہے:
لَنْ تَرٰىنِیْ (پارہ:9، سورۂ اعراف:143)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تُو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا
الفاظ کا حُسْن دیکھئے! یہ نہیں فرمایا کہ اے موسیٰ! میرا دِیدار ہو نہیں سکتا بلکہ فرمایا:
لَنْ تَرٰىنِیْ
یعنی اے موسیٰ! آپ نُورِ اِلٰہی کی تجلی دیکھ نہیں پائیں گے کیونکہ نُورِ اِلٰہی کو دیکھنے کے لئے نگاہِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ درکار ہے، اس تجلی کو برداشت کر لینے کے لئے قلبِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ضرورت ہے۔
اللہ اکبر! یہ شان ہے میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام کو جو نعمت مانگے نہ ملی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بستر سے جگا کر، خَلْوتِ خاص میں بُلا کر بِن مانگے وہ نعمت عطا کر دی گئی۔
کیا بَنَا نامِ خُدا، اَسْرا کا دولہا نُور کا سَر پہ سہرا نُور کا، بَر میں شہانہ نُور کا
بَزْمِ وحدت میں مزا ہو گا دوبالا نُور کا ملنے شَمْعِ طُور سے جاتا ہے اِکّا نُور کا([1])
وضاحت:سُبْحٰنَ اللہ! اَسْرا کے دُولہا کیسے نُور سے سج گئے ہیں، سَر مبارَک پر نُورانی عمامہ ہے، تَنِ پاک پر لباسِ شریف بھی نُورانی ہے۔ اللہ! اللہ! وہ جلوۂ نُورِ اِلٰہی جس کی ایک تجلی کوہِ طُور