Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

پِھر اسی آن کے بعد اُن کی حیات                                                  مثلِ سابق وہی جسمانی ہے

وضاحت: یعنی یقیناً انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم  کی بارگاہ میں بھی موت نے حاضِری دی مگر اُن کی موت فقط آنّی (یعنی لمحے بھر کی) ہے، اس کے بعد پھر انہیں پہلے جیسی ہی زِندگی عطا کر دی جاتی ہے۔

وَلِی بھی زندہ ہیں

انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم  کے صدقے اور وسیلے سے اور بھی کئی خوش نصیب ہیں، جن کے جسموں کو زمین نقصان نہیں پہنچاتی۔ مثلاً؛ *اَوْلیائے کرام کے مبارَک جسم قبر میں سلامت رہتے ہیں، ترمذی شریف میں ہے:پچھلی اُمّتوں کے ایک وَلِیُّ اللہ جن کو اُس زمانے کے بادشاہ نے شہید کر دیا تھا، مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہ کے دورِ خِلافت میں اُن کی قبر کھل گئی، لوگوں نے آنکھوں سے دیکھا کہ اُن کا جسمِ پاک بالکل صحیح سلامت تھا، شہید ہوتے وقت جب انہوں نے زخم پر ہاتھ رکھا تھا، اب بھی اسی طرح رکھا تھا، ہاتھ ہٹایا گیا تو جسم سے تازہ خُون جاری ہو گیا۔ ([1])

سُبْحٰنَ اللہ! معلوم ہوا؛ اَوْلِیَائے کرام بھی اپنے مزارات میں زندہ ہوتے ہیں، ان کے جسم بھی قبر میں سلامت رہتے ہیں۔

جسم سلامت رکھنے والے اَعْمال

اسی طرح حدیثِ پاک میں ہے: *ثواب کی خاطِر اذان دینے والا خُون میں تڑپتے شہید کی طرح ہے، اس کی قبر میں کیڑے نہیں آئیں گے *رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  


 

 



[1]...ترمذی، کتاب تفسیر القران، باب ومن سورۃ البروج، صفحہ:770-771، حدیث:3340۔