Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

مٹّی ڈال دی گئی، آہ! یہ مٹّی ہی کا بندہ ہے جو خُوشی میں پُھولے نہیں سماتا، غم کے وقت شکوے کرتا، روتا، واویلا مچاتا ہے مگر ...!! افسوس! بندہ کچھ بھی کرے، مٹّی کا انجام مٹّی ہی ہے۔ اے بندے! میری میری نہ کر! میری زمین، میرا مال، میری جائیداد، میری گاڑی، میری عزّت، میری زندگی وغیرہ وغیرہ باتیں کر کے اکڑ مت دِکھا، یہ دُنیا اور یہاں کا سب کچھ نہ تیرا ہے نا میرا ہے، یہ دُنیا چار دِن کی ہے، آخِر کار مٹّی کی ڈھیری یعنی قبر بنے گی اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

اللہ پاک ہماری خاک کو محفوظ فرمائے! آئیے! دُعا کرتے ہیں:

مٹی نہ ہو برباد پسِ مرگ اِلٰہی                                                                                جب خاک اُڑے میری مدینے کی ہوا ہو

کاش! مرنے کے بعد جب قبر میں اُتْرَیں تو ہماری خاک برباد نہ ہو، کاش! مدینے کی ہوا اُڑا کر ہماری خاک کو محبوبِ ذیشان  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے قدموں میں ڈال دے۔

قیامت کے دِن اُٹھایا جائے گا

پیارے اسلامی بھائیو! یہ دُنیا آج جیسی ہمیں نظر آ رہی ہے، خشکی فُلاں جگہ سے فُلاں جگہ تک ہے، فُلاں جگہ دریا ہے، فُلاں جگہ سمندر ہے *شاید آج سے ہزاروں سال پہلے یہ ایسی نہیں تھی *یہاں نہ جانے کون کون دفن ہے *کتنے ایسے ہیں جن کے نشان تک باقی نہیں رہے، آہ! عنقریب ہمیں بھی اس دُنیا سے جانا ہے *آج سے شاید ایک دو صدیوں کے بعد ہی ہمارا بھی کوئی نام و نشان موجود نہیں ہو گا *ممکن ہے؛ ہماری قبروں کے نشان بھی مِٹ چکے ہوں *شاید ایک سو سال کے بعد  ہمارے گھروں میں ہماری جگہ کوئی اَور آباد ہو گا *ہماری جائیداد کسی اور کے نام پر ہو گی، جیسے آج  بالفرض  *ہمارے