Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ بس آخر  سے ایک دھاگے کے ساتھ اٹکا ہوا ہے، قریب ہے کہ یہ دھاگا بھی ٹوٹ جائے۔([1])

کسی شاعِر نے بڑی خوبصُورت عکّاسی کی، کہا:

اِک یہ جہاں، اِک وہ جہاں، دونوں جہاں کے درمیاں

ہے فاصلہ اک سانس کا، گر آگئی تو یہ جہاں، گر رُک گئی تو وہ جہاں

یہ صِرْف ایک ڈوری ہی تو ہے، مختصر سِی ڈوری، کمزور سی ڈوری...!! چند منٹ آکسیجن نہ ملے تو سانس رُکنے لگتی ہے، اٹک جاتی ہے، دم گھٹ جاتا ہے، بس یہ ڈوری ٹوٹنے کی دَیْر ہے، بندہ دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ دُنیا کی یہی حقیقت ہے۔

مُعَاملہ جلدی کا ہے

صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: ایک دِن میں اور میرے والِد صاحِب اپنے مٹی کے بنے ہوئے کچے مکان کی مرمّت کر رہے تھے، اتنے میں رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کا وہاں سے گزر ہوا، آپ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے پوچھا: مَا ہَذَا یَا عَبْدَ اللہ؟ اے عبد اللہ! یہ کیا کر رہے ہو؟ عرض کیا: یارسول َاللہ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! ہمارا کچا مکان کچھ کمزور ہو گیا تھا، اِس کی مرمّت کر رہے ہیں۔ فرمایا: اَلْأَمْرُ أَسْرَعُ مِمَّا تَرَوْنَ یعنی اے عبد اللہ! مُعَاملہ تو اس سے بھی بہت جلدی کا ہے۔([2])

یہ تعلیم مصطفےٰ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ہے، ہم گھروں کی مرمّت اور تعمیرات وغیرہ کیا ہی کرتے ہیں، جائِز بھی ہے مگر آپ  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے تَوَجُّہ دِلائی کہ اے عبد اللہ!


 

 



[1]... موسوعہ ابن ابی دنیا، کتاب قصر الامل، جلد:3، صفحہ:332، حدیث:122۔

[2]...آداب للبیہقی، باب البناء، صفحہ:290، حدیث:879۔