Book Name:Kar Saman Chalne Ka
اس میں شِرکت کیا کیجئے! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! *عِلْمِ دِین سیکھنے کا موقع ملے گا * اتنی دَیْر مسجد میں بیٹھنے کا ثواب ملے گا *نیک صحبت میں بیٹھنا نصیب ہو گا *گھر سے ہی دَرْس میں شرکت کی نِیّت کر کے چلیں گے تو راہِ عِلْمِ دِین میں چلنے کا ثواب ملے گا * اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! مخلوقات حتی کہ دریا کی مچھلیاں بھی دُعا کریں گی۔
حیدرآباد، سندھ کے مقیم ایک اسلامی بھائی اپناواقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:میں گُناہوں میں اس قدر گِھرا ہوا تھا کہ مجھے اپنی زِندگی کے قیمتی لَمْحات برباد ہونے کا اِحْسَاس تک نہ تھا، ایک دن میں ہوٹل میں بیٹھا تھا اور ٹی وی پرچلنے والے فِلمی مناظِر میں کھویا ہوا تھا کہ سُنّتوں بھرا لِباس پہنے ایک اسلامی بھائی میرے قریب آئے اور گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور بولے: پیارے بھائی! باہَر چوک دَرْس ہو رہا ہے۔ آپ چند منٹ عِنَایَت فرما دیں اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! ڈھیروں نیکیوں کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔ میں ان کی خوش اَخلاقی و ملنساری سے متاثّر (Impress)ہو کر ہاتھوں ہاتھ ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہوٹل کے باہَر ایک اسلامی بھائی فیضانِ سنّت سے دَرْس دے رہے تھے، دوسرے اسلامی بھائیوں کی طرح میں بھی دَرْس سننے میں مصروف ہوگیا،دَرْس سُن کر میرا دِل چوٹ کھا گیا، میں نے صِدْقِ دِل سے توبہ کی اور اسلامی بھائیوں کی صحبت اختیار کر لی، جس کی بدولت کبھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سَعَادَت تو کبھی قافلوں میں عاشِقانِ رَسول کے ساتھ سَفَر نصیب ہونے لگا۔رَفْتہ رَفْتہ میں دِینی ماحول کے قریب سے قریب تَر ہوتا چلا گیا، بالآخر ہوٹلوں کی زِیْنَت بننے والا نوجوان چوک دَرْس کی برکت سےآج اَلحمدُ لِلّٰہ!عاشقانِ رسول