Book Name:Kar Saman Chalne Ka
سے قیامت کے دِن مخلوق کو دوبارہ بنایا جائے گا۔([1])
کتابوں میں لکھا ہے: ریڑھ کی ہڈی میں ایک باریک سا ذَرَّہ ہوتا ہے، جسے عَجَبُ الذَّنَب کہتے ہیں۔ یہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ جو خوردبین ( یعنی مائیکرواسکوپ) سے بھی نظر نہیں آتا۔ روزِ قیامت اسے سے انسان کو دوبارہ بنایا جائے گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک قُدرتوں والا ہے، یہ زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، درخت پتھر وغیرہ سب کچھ اسی نے بنایا ہے، وہ انہیں دوبارہ بنانے پر بھی قادِر ہے، ہم پہلے نہیں تھے، اُس نے ہمیں پیدا فرمایا، پِھر ہم فنا ہو جائیں گے، فنا بھی وہی کرتا ہے، وہ قدرتوں والا رَبِّ کریم دوبارہ زِندہ کرنے پر بھی قُدْرت رکھتا ہے۔
انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم زندہ ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں یہ بات ذِہن میں بٹھا لیجئے! کہ انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم وہ بلند رُتبہ ہستیاں ہیں کہ ان کے پاک جسموں کو زمین کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ حدیثِ پاک میں ہے: اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَآءِ یعنی بےشک اللہ پاک نے نبیوں کے جسموں کو نقصان پہنچانا زمین پر حرام فرما دیا ہے۔([2]) ایک حدیثِ پاک میں ہے: اَلْاَنْبِیَآءُ اَحْیَآءٌ فِیْ قُبُورِہِمْ يُصَلُّونَیعنی انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم اپنے مزارات میں زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں ۔ ([3]) اِمامِ اہلسنت شاہ اِمام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
انبیاء کو بھی اَجَل آنی ہے مگر ایسی کہ فَقط آنی ہے