Book Name:Kar Saman Chalne Ka
کاش لب پر مرے رہے جاری ذکر آٹھوں پہر ترا یاربّ!
قبر میں نقصان دینے والے 4 اَعْمَال
پیارے اسلامی بھائیو! یہ 4 نیک اَعْمَال (نماز، صدقہ، تلاوت اور ذِکْرُ اللہ کی کثرت، یہ وہ اَعْمَال ہیں جو) قبر میں کام آتے ہیں، قبر روشن کرتے اور قبر کے عذاب سے بچاتے ہیں۔ فقیہ ابو اللیث سمر قندی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے بیان کے مطابق 4 بُرے اعمال وہ ہیں جو قبر کے عذاب کا سبب ہیں، جو قبر میں سلامتی کا خواہش مند ہے، اس پر لازِم ہے ہر گُنَاہ سے اور بالخصوص ان 4 چار گُنَاہوں سے لازمی بچتا رہے۔
قبر میں سلامتی کے لئے جھوٹ سے بچئے!
پہلا بُرا عَمَل ہے: جھوٹ۔ صادِق و امین نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جھوٹ گُنَاہ کی طرف لے جاتا ہے اور گُنَاہ جہنّم میں جانے کا سبب ہے۔ بےشک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کذَّاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔([1])
جھوٹ کی تعریف، اس کی مثالیں اور عذابات جاننے کے لئے امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ جھوٹاچور پڑھ لیجئے۔
قبر میں سلامتی کے لئےخیانت سے بچئے!
قبر میں نقصان دینے والا دوسرا بُرا عَمَل ہے: خیانت۔ یعنی کسی کی رکھوائی ہوئی امانت میں ناجائِز ردّ و بدل کرنا یا امانت واپس نہ لوٹانا۔ حضرت مجاہد رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روایت ہے: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: دھوکا اور خیانت آگ میں ہے،