Book Name:Kar Saman Chalne Ka
پردادا، لکڑ دادا وغیرہ دُنیا میں واپس آجائیں تو ہم انہیں نہیں پہچان سکیں گے *یونہی ہمارے پڑپوتے وغیرہ ہمیں نہیں پہچانیں گی *جیسے آج ہم اپنے آباء و اَجْدَاد کو بُھول چکے ہیں، ہمارے پردادا وغیرہ کی شکلیں ہمارے وَہْم و گمان میں بھی نہیں ہیں *یُونہی ہماری شکلیں ہماری آیندہ نسلوں کے گمان میں بھی نہیں ہوں گی، آہ! موت آئے گی، قبر کی ڈھیری بنے گی، پِھر آہستہ آہستہ ہوائیں اُن قبروں کے نشان تک مٹا کر رکھ دیں گی۔ اس سے زیادہ عِبْرت کی بات یہ ہے کہ قصَّہ یہیں تمام نہیں ہو گیا، قیامت کے دِن اللہ پاک اس بکھری ہوئی خاک کو جمع فرما کر پِھر سے مُردَوں کو زندہ فرما دے گا، پِھر ہر ایک کو اپنے اَعْمال کا حساب دینا ہو گا۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْۚ- (پارہ:26، سورۂ ق:4)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان سے گھٹاتی ہے۔
یعنی مُردَوں کے جسم کے جو حصّے، گوشت، خُون اور ہڈیاں وغیرہ زمین کھا جاتی ہے، ان میں سے کوئی چیز اللہ پاک پر چھپی نہیں ہے، اللہ پاک ان کے بدن کے ہر ہر حصّے کے بارے میں جانتا ہے، ان کے جسم کا کونسا حصَّہ بکھر کر کہاں گیا، کس چیز میں مِل گیا، اللہ پاک کو اس سب کا عِلْم ہے، قیامت کے دِن بکھری ہوئی اس خاک کو پِھر سے جمع کر کے جسم بنایا جائے گا اور رُوح ڈال کر زندہ کر دیا جائے گا۔([1])
حدیثِ پاک میں ہے: انسان کی ہر چیز گل جائے گی، ریڑھ کی ہڈی نہیں گلے گی، اس