Book Name:Kar Saman Chalne Ka
کئے جاتے ہیں *شبِ بَراءَت آ گئی، نِجات کی رات ہے، اس رات کو بَنُو کَلْب(یعنی عرب کے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والے قبیلے) کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنّم سے آزاد کر دیا جاتا ہے *آگے اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! رمضان شریف تشریف لے آئے گا، رمضان شریف میں ہر روز لاکھوں گنہگاروں کی بخشش ہوتی ہے *پِھر اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!شبِ قدر تشریف لے آئے گی، ایسی بابرکت رات جو مغرب سے لے کر فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے، اس میں فرشتے اُترتے ہیں، اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ یونہی یہ مواقع ہمارے لئے آتے ہی رہتے ہیں، یعنی ہم محبوب صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اُمّتیوں کی خاطِر بخشش و مغفرت کے دروازے کھلے ہی رہتے ہیں، کاش! ہم ان مواقع کی قدر کرنے والے بن جائیں، کاش! ان بابرکت راتوں کی صحیح معنوں میں قدر کریں، سچّی پکّی توبہ کر کے، گُنَاہ چھوڑ کر، نیکیوں پر کمر باندھ کر رحمتِ اِلٰہی کے حقدار بننے میں کامیاب ہو جائیں۔
مغفرت کا ہوں تجھ سے سُوالی پھیرنا اپنے دَر سے نہ خالی
مجھ گنہگار کی التجا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے
نارِ دوزخ سے مجھ کو اماں دے مغفرت کر کے باغِ جِناں دے
کر دے رَحْمت مری التجا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
علّامہ قرطبی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بڑے عالِم ہوئے ہیں، آپ نے ایک سبق آموز اور