Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

تب کی تب دیکھی جائے گی، نہ...!! نہ! موت کو دُور مت سمجھئے! موت بس آنے ہی والی ہے، کیا خبر ہم کل کا سورج بھی دیکھ پائیں گے یا نہیں...!! موت کے متعلق یہ جو باتیں عرض کی جا رہی ہیں؛ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابھی ہمارے پاس کئی سال کی زندگی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارا کل ہی قبر کے ساتھ واسطہ پڑ جائے۔ 

یہ جنازہ کس کا ہے...؟

حضرت ابُودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ عنہجو مشہور صحابی ہیں، ایک مرتبہ کا ذِکْر ہے، کہیں سے جنازہ گزر رہا تھا، حضرت ابُودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ عنہبھی جنازے کے ساتھ جا رہے تھے، اتنے میں ایک شخص جنازے میں شریک ہوا، عمومًا ہوتا ہے کہ جنازہ گزرتے دیکھیں تو لوگ پوچھتے ہی ہیں کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ اس نئے شخص نے بھی پوچھا: مَنْ ہٰذَا یہ کون ہے؟ (یعنی کس کی میت ہے؟) حضرت ابُودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ عنہنے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ہٰذَا اَنْتَ  فَاِنْ کَرِہْتَ فَاَنَا یعنی یہ تمہارا جنازہ ہے  اور اگر تمہیں یہ بات بُری لگی ہے تو یُوں کہہ لو کہ یہ میرا(یعنی ابُودَرْدَاء کا ) جنازہ ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: ([1])

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘(۳۰) (پارہ:23، سورۂ زُمر:30)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔

مطلب یہ کہ اے شخص! یہ جنازہ کس کا ہے، اس فِکْر کو چھوڑ...!! یہ سوچ کہ عنقریب تم اور میں بھی اسی طرح موت کے گھاٹ اُتر جائیں گے، ہمیں بھی یونہی غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور یونہی چار کندھوں پر اُٹھا کر  اندھیری قبر میں اُتار دیا جائے گا۔


 

 



[1]...تنبیہ الغافلین، باب الحزن فی امر الاخرۃ، صفحہ:321۔