Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

نے فرمایا: جب حافِظِ قرآن انتقال کرتا ہے تو اللہ پاک زمین کو حکم دیتا ہے کہ اس کے گوشت کو مت کھانا۔ زمین عرض کرتی ہے: اےمیرے ربّ! میں اس کے گوشت کو کیسے کھا سکتی ہوں حالانکہ تیرا کلام اس کے سینے میں ہے۔([1])

کاش! ہمیں بھی یہ سَعَادت نصیب ہو جائے۔ کاش! قبر میں ہمارا جسم بھی محفوظ رہے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمَ النَّبِیّٖن  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  

انسان کو چھوڑا نہیں جائے گا...!!

پیارے اسلامی بھائیو! ہم دُنیا میں آئے ہیں، جانا بھی لازمی پڑے گا، ہمارا مٹی کا جسم ایک دِن پِھر مٹی میں مِل جائے گا، اگرچہ جسم گل سَڑ کر مٹی میں مِل جائیں،  ہوائیں خاک اُڑا کر اِدھر اُدھر بکھیر دیں، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہم بالکل بُھولے بِسْرے ہو جائیں گے، ایسا ہو گا کہ گویا ہم دُنیا میں آئے ہی نہیں، ایسا نہیں ہے، ہم آج جو یہاں سانسیں لے رہے ہیں، جو جو اَعْمَال ہم کر رہے ہیں، ہمارا جسم چاہے قبر کے اندر رہے یا ہوائیں خاک اُڑا کر بکھیر دیں، جہاں ہوں گے، برزَخْ کا معاملہ، وہیں، اُسی حال میں جارِی رہے گا۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰)  (پارہ:18، سورۂ مؤمنون:100)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں  گے

یعنی موت سے لے کر قیامت کے دِن اُٹھنے تک کا عرصہ بَرْزَخ ہے([2])*یہ عرصہ


 

 



[1]...فردوس الاخبار، جلد:1، صفحہ:168، حدیث:1119۔

[2]...بہارِ شریعت، جلد:1، صفحہ:98، حصّہ:1 بتصرف قلیل۔