Kar Saman Chalne Ka

Book Name:Kar Saman Chalne Ka

بہت ہی عِبْرتناک واقعہ لکھا ہے، آنکھیں کھول دینے والا واقعہ ہے، لکھتے ہیں: پچھلی اُمّتوں کی بات ہے، ایک شخص تھا، اس کے دو بیٹے تھے، موت تو آنی ہی آنی ہے، ایک وقت آیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، اس نے وراثت میں ایک گھر چھوڑا۔

اب ہوتا تو عمومًا یہی ہے کہ بنانے والا بنا کر چلا جاتا ہے، بعد والے وراثت کو لے کر لڑائیاں کرتے ہیں (ایسا کرنا نہیں چاہئے، وراثت کی تقسیم پیار محبّت سے ہی شریعت کے مطابق کر لینی چاہئے)، خیر! اس شخص کے دونوں بیٹے اُس ایک گھر کو لے کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ جب ان کا آپس میں جھگڑا ہو رہا تھا، اللہ پاک نے اس گھر میں لگی ہوئی ایک اینٹ کو بولنے کی طاقت بخشی، اینٹ نے بول کر کہا: یَا ہٰذَانِ فِیْمَا تَتَنَازَعَانِ؟ اے دو بھائیو! کس بارے میں جھگڑا کرتے ہو؟ (مجھ سے میری کہانی سُنو!)  میں ایک بادشاہ تھا، سالہا سال میں حکومت کرتا رہا، پِھر مجھے موت نے فنا کے گھاٹ اُتار دیا۔ (میرے خوبصُورت رُخسار، پیاری پیاری آنکھیں، طاقتور جسم، مضبوط بازُو، میری ہڈیاں ، غرض؛) میرا وُجُود گل سَڑ کر مٹی میں مِل گیا۔ ایک ہزار سال تک میری مَٹی برباد رہی ہے، پِھر ایک کمہار (یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) نے میری دَفَن کی جگہ سے مٹی اُٹھائی، میرے وُجُود کی مٹی سے ایک پیالہ بنا دیا، اب میرے جسم کی مٹی کو پیالے کی صُورت میں استعمال کیا جاتا رہا، پِھر وقت گزرا، سالہا سال کے بعد پیالہ بھی ٹوٹ گیا، مٹی پِھر مٹی میں مِل گئی، پِھر ایک شخص نے اس مٹی سے اینٹ بنائی اور اس مکان میں لگا دیا گیا۔ جب انجام ایسا ہے، پِھر کس بات پر جھگڑا کر رہے ہو...؟ ([1])

کہاں تختِ خُسْرو! کہاں طاقِ کِسْریٰ                               محلِّ اِقامت کا اُن کے پتا کیا؟

ملے خاک میں سینکڑوں مسند آراء                                                   نہ گورِ سکندر ہے نہ قبرِ دارا


 

 



[1]...التذکرۃ للقرطبی، باب ما جاء ان للموت سکرات، صفحہ:24۔