دمشق کا تعارف و اہمیت(قسط:03)

تاریخ کے اوراق

دمشق کا تعارف و اہمیت ( قسط : 03 )

*مولانا محمد آصف اقبال عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل2023

رُوئے زمین پر کچھ ایسے شہر بھی ہیں جن پر اللہ کریم کی خاص نظرِ رحمت ہے ، ان میں سے ایک ملکِ شام کا شہر دِمَشق بھی ہے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی تعریف و توصیف فرمائی اور جس نے بھی اس شہر کی شان وشوکت دیکھی وہ اِس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا ، حتّی کہ دیکھنے والوں نے اسے زمینی جنّت تک کہا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر خوارزمی رحمۃُ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ دنیا کی جنتیں چار ہیں : دمشق کا علاقہ غُوطہ ، سمرقند کا علاقہ صُغْد ، بَوَّان کی گھاٹیاں اور جزیرہ اُبُلَّہ۔ میں نے یہ سب علاقے دیکھے ہیں ، ان میں سب سے بہتر دمشق کا علاقہ غُوطہ ہے ۔[1]

دنیا کاقدیم شہر : شہرِ دِمشق ایک قدیم شہر ہے۔ حضرت کعبُ الاحبار رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : طوفانِ نوح کے بعد زمین پر سب سے پہلی دیوار ”دیوارِ حَرَّان“بنائی گئی ، پھر دمشق اور اس کے بعد بابل کی بنیاد رکھی گئی۔[2]

1950ء میں دِمشق کے جنوب مشرق میں تَلُّ الصّالِحیّہ کے مقام پر ہونے والی کھدائی سے یہاں چار ہزار سال قبلِ مسیح تک ایک شہری مرکز ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔[3]

دِمشق کی وجہ تسمیہ : شہرِ دمشق کو دمشقُ الشام یا محض الشام  ( Damascus ) بھی کہتے ہیں۔یہ ملک شام کی ماں کہلاتا ہے ، یہ اس کا سب سے بڑا شہر ، الجمہوریۃ العربیۃ السوریۃ کا دار الحکومت اور مقدس سرزمین ہے۔[4]

اس شہر کا نام دمشق کیسے پڑا ؟ اس میں کئی اقوال ملتے ہیں جیسا کہ تاریخِ مدینہ دمشق میں امام ابنِ عساکر نقل فرماتے ہیں : حضرت وہب بن مُنَبِّہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دمشق کو حضرت ابراہیم خلیلُ اللہ علیہ السّلام کے ایک غلام نے بنایا تھا۔ یہ غلام نمرود بن کَنْعَان نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو اس وقت تحفے میں پیش کیا تھا جب آپ آگ سے صحیح سلامت باہر تشریف لے آئے۔ اس غلام کا نام ”دمشق“ تھا تو اُس نے اپنے نام پر شہر کا نام رکھا۔[5]

دمشق کے دروازے : شروع میں شہرِدمشق کے چار دروازے تھے : بابِ غربی جسے بابِ جابیہ کہتے ہیں ، بابِ جنوبی جسے بابِ تُوما کا نام بھی دیا گیا اور آج کل باب مُصَادَمہ کہتے ہیں ، بابِ شرقی جو باب الغُوطہ ہے ، اسی دروازے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور دمشق فتح ہوا اور بابِ شمالی جو بابِ فَرادِیس ہے اور اسے ہی بابِ کَیْسَان کہتے ہیں۔یہاں کی نہر ہر جانب سے شہر کو گھیرے ہوئے ہے اور بابِ توما پر چار نہریں ہیں : نہربرزۃ ، نہر ثورا ، نہر یَزِیْد اور نہر قناۃ۔[6]

دمشق کی مذہبی تاریخ : دیکھا جائے تو دمشق سے بہت ساری مذہبی یاد گاریں وابستہ ہیں۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ذکر قراٰنِ کریم میں بھی موجود ہے۔یہاں کچھ حوالہ جات درج کئے جاتے ہیں ، چنانچہ

 ( 1 ) امام ابنِ عساکر رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : دمشق ہی میں وہ غار بھی ہے جہاں سے حضرت ابراہیم علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے ستارے ، پھر چاند اور سورج کو دیکھا ( اور ان چیزوں کے معبود ہونے کا انکار کیا اور ایک خدا کی بات کی ) ، اس کا ذکرقراٰنِ کریم  ( سورۂ انعام ، آیت 76تا78 ) میں موجود ہے۔[7]

 ( 2 ) دِمشق سے تین میل دور رَبْوہ نامی پہاڑ ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں ، یہی وہ پہاڑ ہے جس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں ہے : )وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّاٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ۠ ( ۵۰ ) ( ترجَمۂ کنز الایمان : اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین جہاں بسنے کا مقام اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی۔[8] (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 ( 3 ) قُربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام آسمان سے جامع مسجد دِمشق کے شرقی مینارے پر اتریں گے ، صبح کا وقت ہوگا اور نمازِ فجر کے لئے اقامت ہوچکی ہوگی۔[9]

دمشق کی اسلامی اہمیت : شہرِ دمشق کو اسلام میں بھی کافی اہمیت حاصل ہے چنانچہ

آخری نبی ، محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا : عنقریب شام فتح ہوگا تو جب تم اس میں کسی منزل کا اختیار دیئے جاؤ تو اس شہر کو اختیار کرنا جسے دمشق کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ مسلمانوں کی پناہ ہے لڑائیوں سے اور سامان کا خیمہ ، اس میں وہ زمین ہے جسے غُوطہ کہا جاتا ہے۔[10]

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : خلافتِ صدیقی میں شام فتح ہونے کی ابتدا ہوئی اور خلافتِ فاروقی میں وہ مکمل فتح ہوا ، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔ نیز غُوطہ دِمشق کا فنائی علاقہ ہے جہاں باغات کھیت وغیرہ کثرت سے ہیں یہ مسلمانوں کا مرکز بنے گا۔[11]

یہ شہر امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں سن14ہجری/ستمبر635عیسوی میں فتح ہوا اور اسلامی سلطنت کا حصہ بنا ، تفصیل کچھ یوں ہے کہ تقریباً ایک سال کے محاصرے کے بعدیہ شہر بابِ جابیہ کی جانب سے حضرت ابوعُبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں صلح پر فتح ہوا جبکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بابِ شرقی سے بغیر صلح کے داخل ہوئے لیکن حضرت ابوعُبیدہ رضی اللہ عنہ نے دونوں جانب صلح کو نافذ کردیا اور ساری صورتِ حال امیرُالمؤمنین رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیج دی تو انہوں نے آپ کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔[12]امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت یزید بن ابو سفیان  رضی اللہ عنہما کو شہرِ دمشق کا والی نامزد کیا۔   [13]  آپ کے وصال کے بعد دمشق کی قیادت آپ کے بھائی حضرت امیرِمعاویہ بن ابوسفیان  رضی اللہ عنہما کو سونپی گئی۔ آپ 20سال بطورِ گورنر ذمہ داری نبھاتے رہے اور بعد میں 20 سال تک اسلامی دنیا کے امیر رہے۔  [14]

جاری ہے۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ ، شعبہ تراجم ، المدینۃُ العلمیہ   Islamic Research Center



[1] آثار البلاد واخبار العباد ، ص189

[2] تاریخ ابن عساکر ، 1/11

[3] اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، 9/398

[4] اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، 9/397- تاریخ ابن عساکر ، 1/3- اربعین بلدانیہ ، ص60

[5] تاریخ ابن عساكر ، 1/13

[6] الروض المعطار فی خبر الاقطار ، ص237

[7] الروض المعطار فی خبر الاقطار ، ص239

[8] پ18 ، المؤمنون : 50- آثار البلاد واخبار العباد ، ص191

[9] مسلم ، ص1201 ، حدیث : 3773- بہار شریعت ، 1/122

[10] مسند احمد ، 6/152 ، حدیث : 17477- مشکاۃ المصابیح ، 2/460 ، حدیث : 6278

[11] مراٰۃ المناجیح ، 8/585ملخصاً

[12] البلدان للیعقوبی ، 163- اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، 9/401

[13] الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، 6/517

[14] اسد الغابۃ ، 5/222


Share