Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
مُلاقات ہو، سب سے پہلے اسے سلام کرنا ہے*لوگوں کو کھانا کھلانا ہے*اور رات کو جب لوگ سو جائیں، کم از کم 2 رکعت نماز پڑھ لینی ہے، ان تین آسان آسان کاموں کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! جنّت میں داخِلہ نصیب ہو جائے گا۔
سلام کو عام کرنے کا نِرالا جذبہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ صحابئ رسول ہیں، آپ کی عادَت کریمہ تھی کہ روزانہ گھر سے نکلتے، بازار جاتے، بازار میں ایک طرف سے داخِل ہوتے اور چلتے چلتے دوسری جانِب سے نکل کر گھر واپس آجاتے، نہ کسی دُکان پر رُکتے، نہ کوئی سودا دیکھتے، نہ بھاؤ! پوچھتے، نہ ہی کچھ خریدتے تھے۔ بس جاتے اور واپس آ جاتے۔ ایک دِن آپ کے غُلام حضرت ابورَافِع رحمۃُ اللہِ علیہ نے پوچھ ہی لیا کہ عالی جاہ! ماجرا کیا ہے؟ آپ بازار جاتے ہیں، نہ کچھ خریدتے ہیں، نہ کچھ دیکھتے ہیں، پِھر بازار جاتے ہی کیوں ہیں؟ فرمایا:میں لوگوں کو سلام کرنے کے لئے جاتا ہوں۔ ([1])
یعنی بازار میں لوگ کافی سارے موجود ہوتے ہیں، لہٰذا میں بازار جاتا ہوں تاکہ وہاں لوگوں کو سلام کروں، ایک تو ان سے جوابِ سلام کی صُورت میں سلامتی کی دُعائیں لُوں، دوسرا سلام کر کے نیکیاں کما لُوں۔
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا جذبہ ہے۔ کاش! ہمیں بھی ایسا شوق نصیب ہو جائے، بس ہماری زبان پر اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ جاری ہی رہنا چاہئے، جب بھی مسلمان بھائی سے مُلاقات ہو، فوراً سلام میں پہل کرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ بول دیں۔ اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! بہت نیکیاں نصیب ہوں گی۔