Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
2سلام کرے (1): سَلامِ لِقَا یعنی ملاقات کا سلام (2): دوسرا سَلامِ وَدَاع یعنی رخصت ہونے کاسلام۔یہ دونوں سلام ہی سنّت ہیں(دونوں ہی کا جواب دینا چاہیے)۔([1])
اسی طرح ایک حدیث شریف میں ہے: جب تم گھر میں جاؤ تو سلام کرو! جب گھر سے نکلو تو بھی سلام کرو...!! ([2])
پتا چلا؛ جس طرح ملتے وقت سلام کرنا محبتیں بڑھاتا ہے، یونہی جُدا ہوتے وقت سلام کرنا بھی محبّت ہی بڑھاتا ہے۔ لہٰذا ملتے وقت بھی سلام کیجئے! اور جُدا ہوتے وقت بھی لازمی سلام کیا کیجئے!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سلام کو عام کرنا جنّت میں لے جانے والی نیکی ہے۔ لہٰذا ہمیں سلام کو عام کرتے ہی رہنا چاہئے۔ جن سے مُلاقات ہو، ان سے تو سلام کرنا ہی کرنا ہے، اس کے عِلاوہ جو ہم سے دُور ہیں، جن سے مُلاقات نہیں ہو پاتی ہے، ان تک بھی وقتًا فوقتًا سلام پہنچاتے رہنا چاہئے۔ آئیے! اس تعلق سے ایک خوبصُورت واقعہ سُنتے ہیں:
اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے مہاجرین (یعنی ہجرت کر کے آنے والے) اور اَنصار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم کے درمیان بھائی چارہ قائِم فرمایا۔ اس سلسلے میں حضرت سلمان فارسی اور حضرت اَبُو دَرْداء رَضِیَ اللہُ عنہما کو آپس میں بھائی بھائی بنایا گیا۔
اسی بنیاد پر حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ عنہ اور حضرت اَبُودَرْداء رَضِیَ اللہُ عنہ آپس