Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

درست جواب نہیں دیتے*صِرْف مُنہ ہِلا دیتے ہیں*زَیْرِ لب ہلکی سی آواز میں وَعَلَیْکُمْ بول دیتے ہیں*بعض لوگ سلام سُن کر صِرْف ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں، مُنہ سےکچھ بولتے ہی نہیں ہیں*اور بعضوں کی تو ایسی بھی حالت ہے کہ سلام سُن کر بھی اس پر کچھ تَوَجُّہ نہیں دیتے، جواب کی جگہ اور قسم کی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب غلط انداز ہیں، اچھے سے ذہن میں بٹھا لیجئے کہ سلام کرنا سُنّت اور اس کا جواب دینا واجب ہے، اگر جواب ہی نہ دیا یا دیا تو سہی مگر  بغیر شرعی مجبوری کے فوراً نہ دیا تو گناہ ہو گا۔([1]) لہٰذا جب بھی کوئی سلام کرے، پُوری تَوَجُّہ کے ساتھ اتنی آواز میں جواب لازمی دیجئے کہ سامنے والا سُن لے۔ جتنے الفاظ سے اُس نے سلام کہا، کم از کم اتنے الفاظ تو جواب میں ضرور کہئے! اَفْضَل یہ ہے کہ جواب میں الفاظ بڑھا دیجئے! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! زیادہ نیکیاں ملیں گی۔

پیارے آقا نے سلام سکھایا

ایک صحابی ہیں: حضرت ابوراشِد عبد الرحمٰن  رَضِیَ اللہُ عنہ  ۔ یہ جب پہلی مرتبہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، فرماتے ہیں: میں اس وقت چھوٹی عمر میں تھا۔ بارگاہِ رسالت میں پہنچ کر میں نے عَرَب کی عادت کے مطابق کہا: اَنْعِمْ صَبَاحًا (آپ کی صبح اچھی ہو، انگلش میں کہیں تو اس کا ترجمہ بنے گا: Good Morning) پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ تو مسلمانوں کا سلام نہیں ہے۔ عرض کیا: پِھر کیسے عرض کروں؟ فرمایا: جب مسلمانوں سے ملو تو کہو: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ ۔ چنانچہ انہوں نے یونہی عرض کیا، تب آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے جواب ارشاد فرمایا۔ ([2])


 

 



[1]...بہارِ شریعت، جلد:3، صفحہ:459-460، حصّہ:16 بتصرف۔

[2]...تاریخ مدینہ دمشق، جلد:35، صفحہ:91۔