Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

اتنا سننا تھا کہ حضرت سلمان فارسی  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے فوراً فرمایا: لاؤ پھر انہوں نے میرے لئے جو تحفہ بھیجا ہے، وہ دے دو...! یہ سُن کر حضرت اَشْعَث بن قیس اور حضرت جَرِیر بن عبد اللہ   رَضِیَ اللہُ عنہما  ہکے بَکّے رہ گئے اور عرض کیا: عالی جاہ! انہوں نے آپ کے لئے کوئی تحفہ نہیں بھیجا۔ فرمایا: جو بھی ان کے پاس سے آتا ہے، وہ میرے لئے تحفہ ضرور بھیجتے ہیں، لہٰذا اللہ پاک سے ڈرو اور امانت ادا کر دو۔  عرض کیا: حُضُور! یہ ہمارا ساز و سامان ہے، اسے آپ جیسے چاہیں استعمال فرما لیں، البتہ حضرت ابودَرْداء  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے آپ کے لئے کوئی تحفہ نہیں بھیجا۔ فرمایا: مجھے تمہارے مال کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے تو بس وہ تحفہ ہی چاہئے،  جو میرے بھائی نے بھیجا ہے۔ اب تو ان دونوں حضرات نے قسم ہی اُٹھا لی، عرض کیا: اللہ پاک کی قسم! حضرت ابودَرْداء  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے کوئی تحفہ نہیں بھیجا۔جب ہم وہاں سے آنے لگے تو انہوں نے صرف اتنا فرمایا تھا کہ عراق میں ایک ایسے صحابیِ رسول رہتے ہیں کہ جب وہ سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں تنہا ہوتے تو حُضُورِ اکرم، نورِ مُجَّسَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو کسی دوسرے کی حاجت نہیں ہوتی تھی، جب تم ان سے ملو تو انہیں میرا سلام کہنا۔

حضرت سلمان فارسی  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے فرمایا: یہی تو وہ تحفہ ہے جس کا میں مطالبہ کر رہا تھا، سلام سے بڑھ کر اَفْضَل تحفہ کیا ہو گا؟ سلام بابرکت اور پاکیزہ ہے۔([1])

 سلام پہنچانا وَاجب ہے

پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے ہاں گھروں میں اَلحمدُ لِلّٰہ! ابھی تک یہ رواج موجود ہےکہ جب کوئی مہمان اپنے گھر واپس جانے لگتا ہے تو کہتے ہیں: سب کو ہمارا سلام دے دینا۔ یہ بہت اچھی عادَت ہے البتہ اس معاملے میں ایک مسئلہ ذہن نشین کر لیجئے! بہارِ شریعت، حِصّہ 16،


 

 



[1]...معجمِ کبیر، جلد:6، صفحہ:219، حدیث:6058۔