Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
صِرْف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس سے آگے وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ نہیں ملاتے، یُوں بِلاوجہ 20 نیکیوں سے مَحْرُوم رہ جاتے ہیں۔ کاش! ہمارا نیکیاں کمانے کا ذِہن بن جائے۔آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ (پارہ:5، سورۂ نساء:86)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور جب تمہیں کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ سے جواب دو۔
یعنی اے مسلمانو...!! جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم اس کے سلام سے بڑھ چڑھ کر جواب دو، اگر وہ کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ تم کہو: وَعَلَیْکُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ، اگر وہ کہے: ا اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، تم کہو: وَعَلَیْکُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ! یہ اچھا جواب ہے، یقیناً اللہ پاک ہر چیز کا حساب لے گا، ہر ایک کو اس کے عَمَل کے مطابق جزا و سزا سے نوازے گا، لہٰذا تمہارے سلام و جواب کا اَجْر برباد نہ جائے گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے،([1])آج کل اس معاملے میں بھی سُستی دیکھنے کو ملتی ہے، بہت سارے لوگ سلام کا