Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

آسان عَمَل نہیں ہے، یہ مشکل کام ہے۔ سلام میں پہل کرنے کے لئے عاجزی دَرْکار ہے، بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بندہ اپنی اَنَا کی وجہ سے یہ نیکی نہیں کر پاتا*بعض دفعہ دِل میں خیال آ رہے ہوتے ہیں: فُلاں مجھ سے چھوٹا ہے، اسے چاہئے کہ مجھے سلام کرے*وہ تو شاگِرْد ہے، اس کا حق ہے کہ استاد کو سلام کرے*فُلاں تو نوکر ہے، اگر میں اسے سلام کروں تو میرا رُعب کہاں جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ خیالات دِل میں اُبھر رہے ہوتے ہیں اور انہیں خیالات کی وجہ سے لوگ سلام میں پہل کر نہیں پاتے۔ لہٰذا سلام میں پہل وہی کر سکے گا جو عاجزی والا ہو اور عاجزی وہ عَمَل ہے کہ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا: مَنْ تَوَاضَع َلِلّٰہ ِرَفَعَہٗ اللہُ جو اللہ پاک کے لئے عاجزی کرتا ہے، اللہ پاک اسے بلندیاں عطا فرما دیتا ہے۔([1])

چونکہ سلام میں پہل کرنا بھی عاجزی کی علامت ہے، لہٰذا اس نیک عمل کی برکت سے اللہ پاک کا قُرْب نصیب ہو جاتا ہے۔

پیارے آقا کا پیارا پیارا انداز

اس لئے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ سلام میں پہل کیا کریں۔ ہمارے پیارے آقا، مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم جن کی شان ہے کہ

بَعْدْ اَزْ خُدَا بُزُرگ تُوْئِی قِصَّہ مُخْتَصر

اللہ پاک کے بعد سب سے اُونچا رُتبہ آپ ہی کا ہے، نبیوں کے امام ہیں، فرشتوں کے بھی نبی ہیں، ساری مخلوقات کے نبی ہیں، اتنا اُونچا رُتبہ ہونےکے باوُجُود انداز مبارَک کیسا نِرالا تھا، روایات میں ہے: پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم گلی سے گزر فرماتے، راستے میں بچوں کو دیکھتے تو سلام میں پہل فرمایاکرتے تھے۔


 

 



[1]... حلیۃ الاولیا، جلد:7، صفحہ:145، حدیث:9958۔