Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

سے مُصَافَحہ کرے (یعنی ہاتھ مِلائے) تو اُن دونوں کے گُنَاہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے تیز ہوا سے پتے گرتے ہیں۔ آپ  رحمۃُ اللہِ علیہ  کی یہ بات سُن کر ایک شخص نے حیرت سے کہا: بےشک یہ تَو بہت چھوٹے عَمَل سے ہے (یعنی اتنے آسان عَمَل سے اتنا بڑا اِنْعام کیسے مِل سکتا ہے؟) حضرت مُجَاہِد  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے فرمایا: (اے شخص!) کیا تُونے اللہ پاک کا فرمان نہیں سُنا([1]):

لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ- (پارہ:10،سورۂ اَنفال:63)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اگر تم زمین میں جو کچھ ہے، سب خرچ کردیتے، تب بھی ان کے دلوں میں اُلفت پیدا نہ کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو ملادیا۔

 یعنی دو دِلوں کی آپس میں محبّت  جس کے نتیجے میں لوگ ایک دوسرے سے ملتے اور ہاتھ مِلاتے ہیں، یہ محبّت کوئی چھوٹا سا عَمَل نہیں، یہ تَو اَنمول نعمت ہے جو دُنیا کی تمام دولت خرچ کر کے بھی حاصِل نہیں کی جا سکتی۔  

مُصافَحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کے فَضائل

*حضرت انس بن مالِک  رَضِیَ اللہُ عنہ  سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب دو مُسلمانوں نے ملاقات کی او رایک دو سرے کا ہاتھ پکڑلیا (یعنی مُصَافَحہکیا) تو اللہ پاک کے ذِمّۂ کرم پر ہے کہ اِن کی دُعا کو حاضِر کردے (یعنی قبول فرمالے) اور ہاتھ جُدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی([2])*تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :مُسلمان جب اپنے مُسلمان بھائی سے ملے اور ہاتھ پکڑے تو ان


 

 



[1]...تفسیر درمنثور، پارہ: 10، سورۂ انفال، زیرِ آیت:63،جلد: 4، صفحہ:100۔

[2]...مسندامام احمد ،جلد:5، صفحہ:401، حدیث:12786 ۔