Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
زمانۂ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: اَنْعَمَ اللہُ بِکَ عَیْنًا(اللہ پاک تمہارے ذریعے آنکھیں ٹھنڈی کرے)، یا کہتے تھے: اَنْعِمْ صَبَاحًا تمہاری صبح اچھی ہو۔ دِینِ اسلام نے ہمیں اس سے روک دیا (اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ! کہنے کا حکم دیا)۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں ان باتوں کو سمجھنا چاہئے! اَلحمدُ لِلّٰہ! اسلام ایک مکمل دِین ہے، اس کی اپنی تہذیب ہے، اپنا تمدّن ہے، اپنی ثقافت ہے، اَلحمدُ لِلّٰہ! اسلام کا رنگ سب مُعَاشروں سے جُدا، سب سے اچھا اور بہترین ہے، ہمیں چاہئے کہ ہر ہر معاملے میں صِرْف وصِرْف اسلام ہی کو فالو کریں۔ اسی کی پیروی کریں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ لِلّٰہ! اِسْلامی سلام دُنیا میں رائِج تمام طریقوں سے اَچھوتا، نِرالا اور بہت باکمال ہے۔ اس کی میں صِرْف ایک مثال عرض کروں؛ زمانۂ جاہلیت میں عمومًا حیَّاکَ اللہ ُ(اللہ تجھے زندہ رکھے) کہتے تھے۔ یہ اچھی دُعا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی بغیر سلامتی کے عذاب ہوتی ہے، کبھی کسی بیمار سے مِل کر دیکھئے! وہ اپنے غم بتائے گا، کبھی ہسپتال کا چکّر لگا کر دیکھئے! زندہ رہنے والے کیسی کیسی اذِیّت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لہٰذا اِسْلام نے ہمیں سکھایا کہ ملاقات کے وقت صِرْف زندگی کی دُعا نہ دو! بلکہ کہو: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ یعنی دُنیا، قبر، حشر، پُل صراط وغیرہ جہاں جہاں تم رہو، ہر وقت، ہر موقع اور ہر حال میں اللہ پاک کی سلامتیاں، اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں تم پر برستی رہیں۔
سُبْحٰنَ اللہ! کیسی خوبصُورت دُعا ہے...!! مگر افسوس! ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ دُعا دینے اور ان سے ایسی بےمثال دُعا لینے کی بجائے، اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔