Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
صفحہ: 106 پر ہے: کسی سے کہہ دیا کہ فُلاں کو میرا سلام کہہ دینا، اس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور جب اس نے سلام پہنچایا تو سامنے والا جواب یُوں دے: عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام۔
بہار شریعت ہی میں ہے: یہ سلام پہنچانا اس وقت وَاجِب ہے، جب اس نے کہہ دیا ہو کہ ہاں میں تمہارا سلام کہہ دوں گا۔ اس صُورت میں سلام اس کے پاس امانت ہے، جو اُس کا حق دار ہے (یعنی جس کے نام کا سلام ہے) اس کو دینا ہی ہو گا۔ عموماً حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا، یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے۔ ([1])
بَزبانِ زائریں تو میں سلام بھیجتا ہوں کبھی خود سلام لاتاتو کچھ اور بات ہوتی([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سلام ہاتھ مِلائے بغیر بھی ہو سکتا ہے، البتہ! مُصَافَحَہ(یعنی ہاتھ مِلانا) بھی سُنت ہے۔ یہ نیک عمل بھی اپنانا چاہئے۔ ایک مرتبہ حضرت مُجاہِد رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: اللہ پاک کی رِضا کے لئے آپس میں محبت رکھنے والے، جو آپس میں بھائی چارہ رکھیں، جب ان میں سے ایک دوسرے کی طرف چلے، اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے اور اُس کے لئے مسکرائے تو ان دونوں کی خطائیں یُوں مِٹتی ہیں جیسے درخت کے پتے گِرتے ہیں۔([3]) ایک روایت میں ہے: آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے مِلے، اس