Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ پیارے آقا  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نےفرمایا: مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی كَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])

سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا!                                          جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

مُعَانَقہ کرنا سُنَّتِ مصطفےٰ ہے

فرمانِ آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم : جس کا کوئی بھائی ہو،اسے چاہیئے اپنے بھائی سے مُعَانقہ کرے۔([2])

 اے عاشقانِ رسول !گلے ملنے کو مُعَانَقہ کہتے ہیں اور مُعَانقہ سُنَّتِ مصطفےٰ ہے۔*مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح میں ہے:خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنّت ہے([3]) پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کئی مرتبہ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ عنہم پر شفقت فرماتے ہوئے انہیں مُعَانقہ کا شَرْف بخشا کرتے تھے۔ مثلاً*خیبر کے موقع پر پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ عنہ  کو سینے سے لگایا اور پیشانی پر بوسہ بھی دیا۔([4])*ایک بار آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت ابو ذَرْ غِفاری  رَضِیَ اللہُ عنہ  کو بُلایا، جب وہ حاضر ہوئے تو شفقت فرماتے ہوئے ،اُنہیں گلے سے لگا لیا۔([5])


 

 



[1]...مشکوٰۃ،کتابُ:الْاِیمان،بابُ:الْاِعْتِصَام، جلد:1، صفحہ:55، حدیث:175۔

[2]...کَنزُ الْعُمَال، کتاب: الفضائل، جلد:7، جز:13، صفحہ:26، حدیث:36235۔

[3]...مرآۃ المناجیح، جلد:6، صفحہ:359۔

[4]...ابو داؤد، کتاب:الادب، باب: قبلۃ ما بین العینین،صفحہ:813، حدیث:5220۔

[5]...ابو داؤد، کتاب:الادب، باب: قبلۃ ما بین العینین،صفحہ:812، حدیث:5214خلاصۃً۔